ستارہ قیصرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 769

ستارہ قیصرہ — Page 120

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۲۰ ستاره قیصره آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کیلئے آپ رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہو کر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اُس ملک پر ہیں جس پر تیری نگا ہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اُس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے ۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پر ہیز گاری اور پاک اخلاق اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں ۔ اے عالی جناب قیصرہ ہند ۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ ایک عیب مسلمانوں اور ایک عیب عیسائیوں میں ایسا ہے جس سے وہ کچی روحانی زندگی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور وہ عیب اُن کو ایک ہونے نہیں دیتا بلکہ ان میں باہمی پھوٹ ڈال رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت خطرناک اور سرا سر غلط ہیں کہ وہ دین کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے ایک بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور گو اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہو گیا ہے اور ہزار ہا مسلمانوں کے دل میری بائیس تئیس سال کی کوششوں سے صاف ہو گئے ہیں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے ہیں گویا ان لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اور جبر کو ہی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ رائے ہر گز صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوارمت اُٹھاؤ اور دین کی ذاتی خو بیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں