سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 512

سرّالخلافة — Page 456

فیج اعوج کے زمانہ کے علماء کی حالت کا ذکر ۳۷۸ علمائے سلف حوادثِ زمانہ کے جمع کرنے پر بہت حریص تھے ۲۵۴ علماء کا ملائکہ کے نزول کے متعلق عقیدہ ۴۲۸ مخالف علماء کا قرآن کو ترک کر کے ظنی باتوں کی طرف جانا ۲۸۷ ان میں سے کوئی بھی نہیں جس نے اللہ کی خاطر اپنے اقارب کو چھوڑا ہو ، دین میں کوشش کی ہو ۲۸۸ گمراہوں کو سمجھانا عالموں پر فرض ہے ۲۴۹ سادہ لوح مولوی دلیل اور دعویٰ میں بھی فرق نہیں کر سکتے۲۹۲ مسلمانوں کو لازم ہے کہ جو نام کے مولوی اور اپنے رسالوں اور وعظوں کو معاش کا ذریعہ بنانے والے ہیں ان کو پکڑیں ۴۱۸ ان کا قرآن و حدیث کو چھوڑنا ۴۰۵ ان کا بغیر سوچے سمجھے مسلمانوں کو کافر اور جہنم ابدی کی سزا کے لائق ٹھہرانا ۴۰۱ علماءِ سُوء کے مونہوں سے جو نکلتا ہے وہ زہر سے اور زمین پر پائی جانے والی ہر بلا سے زیادہ خطرناک ہے ۳۱۰ علماءِ سُو ء کی بُری خصوصیات کا ذکر ۱۸،۱۹ مولویوں کا نصاریٰ کی مدد کرنا ۹،۱۷ ادنیٰ باتوں پر کسی کے کفر کا فتویٰ لگانا ۹ علماء کا تکفیر میں جلدی کرنا اور ہدایت کے لئے نہ آنا ۵ ان کے سچائی سے دور رہنے اور دل کے سخت ہونے کی وجہ ۴ علماء کا قرآن کو چھوڑنا ۴ اس زمانہ کے علماء کی روحانی اورعلمی حالت اور ان کو نصائح۳۰۹ کوئی تحقیراور توہین اور سبّ اور شتم نہیں جو اُن سے ظہور میں نہیں آیا ۳۰۶ آج کل کے مولویوں میں بے ہودہ مکاریوں کی وجہ ۳۰۱ بعض نادان مولویوں کا کہنا کہ یہ تو سچ یہ ہے کہ توفی کے معنی مارنا ہیں لیکن وہ موت نزول کے بعد وقوع میں آئے گی اور اب تک واقع نہیں ہوئی۔اس کا ردّ ۲۹۷ مولویوں کے فتنوں کا عوام الناس پر اثر ۱۹ ان کے متعلق حسن ظن کہ وہ میرے اعوان بنیں گے لیکن ابتلاء کے وقت ان کا پیٹھ پھیرنا ۱۸ ہمارے ملک کے اکثر علماء معرفت، بصیرت اور درایت سے خالی ہیں ۸ علماء مکفرین نے ہماری مخالفت مسیح ابن مریم کی وفات کی وجہ سے کی ہے ۸ علماء کا عوام میں فساد پھیلانا ۱۸۵