سرّالخلافة — Page 308
روحانی خزائن جلد ۸ ۳۰۸ اتمام الحجة کہ انسان کی پرستش کرنا سخت ظلم ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کیا ہیں صرف ایک عاجز انسان اور اگر خدا تعالی چاہے تو ایک دم میں کروڑہا ایسے بلکہ ہزار ہا درجہ اُن سے بہتر پیدا کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کر رہا ہے۔ مشت خاک کو منور کرنا اس کے نزدیک کچھ حقیقت نہیں جو شخص صاف دل سے اور کامل محبت سے اس کی طرف آئے گا بے شک وہ اس کو اپنے خاص بندوں میں داخل کر لے گا۔ انسان قرب کے مدارج میں کہاں تک پہنچ سکتا ہے اس کا کچھ انتہا بھی ہے ہر گز نہیں۔ اے مُردوں کے پرستاروزندہ خدا موجود ہے اگر اس کو ڈھونڈو گے پاؤ گے۔ اگر صدق کے پیروں کے ساتھ چلو گے تو ضرور پہنچو گے۔ یہ نا مردوں اور منٹوں کا کام ہے کہ انسان ہو کر اپنے جیسے انسان کی پرستش کرنا۔ اگر ایک کو با کمال سمجھتے ہو تو کوشش کرو کہ ویسے ہی ہو جاؤ نہ یہ کہ اس کی پرستش کرو مگر وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پر زور دریا سے کمال نام کا نمونہ علماً وعملاً وصدقاً وشبا تا دکھلایا اور انسان کامل کہلایا بخداوہ مسیح بن مریم نہیں ہے۔ مسیح تو صرف ایک معمولی سا نبی تھا۔ ہاں وہ بھی کروڑ ہا مقربوں میں سے ایک تھا۔ مگر اُس عام گروہ میں سے ایک تھا اور معمولی تھا اس سے زیادہ نہ تھا۔ بس اس سے دیکھ لو کہ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ بیچی نبی کا مرید تھا اور شاگردوں کی طرح اصطباغ پایا۔ وہ صرف ایک خاص قوم کے لئے آیا۔ اور افسوس کہ اس کی ذات سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ پہنچ نہ سکا۔ ایک ایسی نبوت کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گیا جس کا ضرر اس کے فائدہ سے زیادہ ثابت ہوا اور اس کے آنے سے ابتلا اور فتنہ بڑھ گیا۔ اور دنیا کے ایک حصہ کثیرہ نے ہلاکت کا حصہ لے لیا مگر اس میں شک نہیں کہ وہ سچا نبی اور خدا تعالیٰ کے مقربوں میں سے تھا۔ مگر وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر انہین جناب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھی جو ابتدا دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملا کی اور بیچی اور ذکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگر چہ سب مقرب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے ۔ اللهم صل وسلّم و بارک علیه و اله و اصحابه اجمعین و اخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العلمين۔