سراجِ منیر — Page 25
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷ سراج منیر عمداً اپنے ایمان کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ پھر اگر ایسی سازش میں بفرض محال کوئی مرید شریک ہو تو تمام مریدوں میں یہ بات کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت میں بڑے بڑے معزز داخل ہیں بی اے۔ اور ایم اے اور تحصیلدار اور ڈپٹی کلکٹر اور اکسٹرا اسٹنٹ اور بڑے بڑے تاجر ۔ اور ایک جماعت علماء و فضلاء۔ تو کیا یہ تمام بچوں اور بدمعاشوں کا گروہ ہے؟ ہم بآواز بلند کہتے ہیں کہ ہماری جماعت نہایت نیک چلن اور مہذب اور پر ہیز گار لوگ ہیں۔ کہاں ہے کوئی ایسا پلید اور لعنتی ہمارا مرید جس کا یہ دعوی ہو کہ ہم نے اس کو لیکھرام کے قتل کے لئے مامور کیا تھا؟ ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت نا پاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کے لئے کوشش کرے اور کرا دے۔ پس افسوس کہ اخبار پنجاب سماچار مطبوعہ ار مارچ میں سازش کا الزام جو ہم پر لگایا ہے یہ کس قد رسچائی کا خون ہے۔ میں صاحب اخبار سے پوچھتا ہوں کہ آپ لوگوں میں بھی بڑے بڑے اوتار گذرے ہیں۔ جیسے راجہ رام چندر صاحب اور راجہ کرشن صاحب۔ کیا آپ لوگ ان کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پیشگوئی کر کے پھر اپنی عزت رکھنے کے لئے ایسا حیلہ کیا ہو کہ کسی اپنے چیلہ کی منت خوشامد کی ہو کہ اس کو اپنی کوشش سے پوری کر کے میری عزت رکھ لے اور پھر ان کے چیلے ان کو اچھا آدمی سمجھتے ہوں ۔ ہاں یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک بد معاش ڈاکو کے ساتھ اور چند بد معاش جمع ہوں اور ایسے کام خفیہ طور پر کریں لیکن اس میرے مریدوں کے سلسلے میں جس کے ساتھ مہدی موعود اور مسیح موعود ہونے کا دعوی بھی بڑے زور سے ہے یہ حرم زدگی کے کام میلان نہیں کھا سکتے ۔ ہر ایک مرید اس بلند دعوی کو دیکھ کر نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ پر ہیز گاری کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہے۔ پس کیوں کر ممکن ہے کہ دعویٰ تو یہ ہو کہ میں وقت کا عیسی ہوں اور جھوٹی پیشگوئیوں کو اس طرح پر پورا کرنا چاہے کہ مریدوں کے آگے ہاتھ جوڑے کہ مجھ سے قصور ہو گیا میری پردہ پوشی کرو جاؤ آپ مرد اور کسی طرح میری پیشگوئی سچی کرو ۔ کیا ایسا مردار ایک پاک جماعت