سراجِ منیر — Page 24
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶ سراج منیر رکھ لے اور اپنے گلے میں رسہ ڈال اور مجھے سچا کر کے دکھلا۔ اب میں منصفوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسے پلید اور لعنتی انسان کا یہ چال چلن دیکھ کر اور یہ شیطانی منصو بہ سن کر کوئی مرید اس کا معتقد رہ سکتا ہے کیا وہ مرشد کو ایک بد کار ملعون اور فاسق فاجر خیال نہیں کرے گا ؟ اور کیا وہ اس کو یہ نہیں کہے گا کہ اے بدکار ہمارے ایمان کو خراب کرنے والے کیا تیری پیشگوئیوں کی اصلیت یہی تھی۔ کیا تیرا یہ منشاء ہے کہ جھوٹ تو تو بولے اور رسہ دوسرے کے گلے میں پڑے اور اس طرح تیری پیشگوئی پوری ہو۔ جس قدر دنیا میں نبی اور مرسل گزرے ہیں یا آگے مامور اور محدث ہوں کوئی شخص ان کے مریدوں میں اس حالت میں داخل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوگا جبکہ ان کو مکار اور منصوبہ باز سمجھتا ہو ۔ یہ رشتہ پیری مریدی نہایت ہی نازک رشتہ ہے۔ ادنی بدظنی سے اس میں فرق آجاتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ اپنے مریدوں کی جماعت میں دیکھا کہ بعض ان میں سے صرف اس وجہ سے میری نسبت شبہ میں پڑ گئے کہ میں نے ایک عذر بیماری سے جس کی انہیں اطلاع نہیں تھی نماز کے قعدہ التحیات میں رہنے پیر کو کھڑا نہیں رکھا تھا۔ اتنی بات میں دو آدمی باتیں بنانے لگے اور شبہات میں پڑ گئے کہ یہ خلاف سنت ہے۔ ایک مرتبہ چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے میں نے پکڑی کیوں کہ میرے داہنے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی اور کمزور ہے۔ اس پر بعض نے نکتہ چینی کی کہ خلاف سنت ہے اور ہمیشہ ایسا ہوتا رہتا ہے کہ بعض نو مرید ادنی اردنی باتوں پر اپنی نافہمی سے ابتلا میں پڑ جاتے ہیں اور ادنی اونی خانگی امور تک نکتہ چینیاں شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کو بھی اسی طرح تکلیف دیتے تھے کیونکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس کے پیرو ہر ایک انسان کے قول و فعل کو راستبازی اور تقویٰ کے پیمانہ سے ناپتے ہیں۔ اور اگر اس کے مخالف پاتے ہیں تو پھر فی الفور اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔ سوسوچنا چاہیے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایسے لوگ اس بدمعاش شخص کے ساتھ وفا کر سکیں جس کا تمام کاروبار مکروں اور منصوبوں سے بھرا ہوا ہے۔ اور لوگوں کو ناحق کے خون ۲۳ کرنے کے لئے مامور کرنا چاہتا ہے تا اس کا ناک نہ کٹے اور پیشگوئی پوری ہو۔ کوئی انسان