سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 494

سراجِ منیر — Page 19

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۱ سراج منیر کہ آتھم نے شرط سے فائدہ اٹھایا ہے اور اس کی موت میں ہم نے کچھ تاخیر ڈال دی تو میں نے آتھم صاحب کو چار ہزار روپیہ کے انعام پر قسم کھانے کے لئے بلایا کہ اگر در پردہ اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا یا اسلامی ہیبت ان کے دل پر طاری نہیں ہوئی تو چاہیے کہ میدان میں آ کر قسم کھائیں (۱۸) یا اگر قسم نہیں تو نالش کر کے اپنے اس خوف کے وجوہ کو جس کا ان کو اقرار ہے بپا یا ثبات پہو نچاویں مگر انہوں نے نہ قسم کھائی نہ نالش کی باوجود یکہ ان کو صاف اقرار تھا کہ میں میعاد پیشگوئی کے اندر ڈرتار ہا مگر اسلامی ہیبت سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ سانپ اور حملوں وغیرہ سے۔ اور چونکہ وہ خوف کو چھپا نہ سکے اس لئے یہ بہانے بنائے اور ثبوت کچھ نہ دیا اور اسی وجہ سے ان کو قسم کی طرف بلایا گیا تھا۔ تا اگر وہ بچے ہیں تو قسم کھا لیں مگر با وجود چار ہزار روپیہ نقد دینے کے قسم نہ کھائی۔ نہ نالش سے اپنے ان بہتانوں کو ثابت کیا یہاں تک کہ قبر میں داخل ہو گئے ۔ میرے الہام میں یہ بھی تھا کہ اگر آتھم سچی گواہی نہیں دے گا اور نہ قسم کھائے گا تب بھی اصرار کے بعد جلد مرے گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آتھم صاحب میرے آخری اشتہار سے سات مہینے کے اندر مر گئے ۔ اور عجیب تر یہ کہ ان کے اس تمام قصہ کی بارہ برس قبل از وقوع براہین احمدیہ کے الہامات میں خبر موجود ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۴۱ براہین احمدیہ۔ پھر ایسی صاف اور روشن پیشگوئی کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ پوری نہیں ہوئی کس قدر انصاف کا خون کرنا ہے۔ کیا آتھم صاحب کی اس پیشگوئی میں کوئی شرط نہیں تھی ؟ اور اگر تھی تو کیا آتھم صاحب نے اپنے اقوال اور افعال سے اس شرط کا پورا ہونا ثابت نہیں کیا ؟ کیا آتھم صاحب میرے اس الزام کو قبر میں ساتھ نہیں لے گئے کہ انہوں نے خوف کا اقرار کر کے پھر یہ ثابت کر کے نہ دکھلایا کہ وہ خوف کسی تعلیم یافتہ سانپ وغیرہ حملوں کی وجہ سے تھا نہ اسلامی پیشگوئی کے رعب کی وجہ سے ۔ وہ ہمیشہ مباحثات کرتے تھے مگر پیشگوئی کے بعد ایسے چپ ہوئے کہ چپ ہونے کی حالت میں ہی گذر گئے ۔ پس پیشگوئی تین طور سے پوری ہوئی اول اپنی شرط کی رو سے کہ شرط پر عمل کرنے سے اس کا فائدہ آتھم کو دیا گیا۔ دوم اخفائے شہادت کے بعد جو وعدہ موت تھا اس وعدہ