سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 494

سراجِ منیر — Page 18

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰ سراج منیر لیکھرام کی نسبت آریوں کے خیالات اس کے قتل کئے جانے کے بعد اخبار عام مطبوعہ چہار شنبہ ۱۰ مارچ ۱۸۹۷ء میں میری نسبت اشارہ کر کے یہ لکھا ہے کہ ایک عیسائی ڈپٹی صاحب کی نسبت پیشگوئی فوت ہونے کی در عرصہ ایک سال مشتہر کی گئی تھی اور اخباروں میں اس کی چر چاتھی۔ اور خدانخواستہ ان ایام میں اگر ڈپٹی صاحب کے ساتھ ایسا واقعہ ہو جاتا ( یعنی قتل کا واقعہ ) جس کا خمیازہ لیکھر اج صاحب کو بھگتنا پڑا ہے تب اور صورت تھی۔ اب ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایڈیٹر صاحب کی اس تقریر کا کیا مطلب ہے۔ بس یہی مطلب ہے کہ اگر ڈپٹی آتھم صاحب قتل ہو جاتے تو ایڈیٹر صاحب کے خیال میں گورنمنٹ کو پیشگوئی کرنے والے کی نسبت فی الفور توجہ پیدا ہوتی اور وہ تفتیش ہوتی جواب نہیں ہے۔ غالباً اس تقریر سے ایڈیٹر صاحب کی کوئی نیت نیک ہوگی مگر چونکہ وہ ایک سطحی خیال اور خلاف واقعہ سمجھ کا ایک داغ ساتھ رکھتی ہے اس لئے افسوس کی جگہ ہے۔ ایڈیٹر صاحب کی تقریر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آئھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن ہم مختصر طور پر یاد دلاتے ہیں کہ وہ پیشگوئی بڑی صفائی سے پوری ہوئی۔ آتھم صاحب میرے ایک پرانے ملاقاتی تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ زبانی اور ایک خاص رقعہ کے ذریعہ سے بھی الحاج کیا تھا کہ اگر میری نسبت کوئی پیشگوئی ہو اور وہ بچی نکلی تو میں کسی قدر اپنی اصلاح کروں گا۔ سوخدا نے ان کی نسبت یہ پیشگوئی ظاہر کی کہ وہ پندرہ مہینے کے عرصہ میں ہادیہ میں گریں گے مگر اس شرط سے کہ اس عرصہ میں حق کی طرف انہوں نے رجوع نہ کیا ہو پس چونکہ خدا کی پیشگوئی میں ایک شرط تھی اور آتھم صاحب خوفناک ہو کر اس شرط کے پابند ہو گئے تھے پس ضرور تھا کہ وہ اس شرط سے فائدہ اٹھاتے کیوں کہ ممکن نہیں کہ خدا کی شرط پر کوئی عمل کر کے پھر اس سے نفع نہ اٹھائے ۔ لہذا شرط کی تاثیر سے ان کی موت میں کسی قدر تاخیر ہوگئی ۔ اگر کہو کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ دل میں انہوں نے اسلام کی طرف رجوع کر لیا تھا یا ان پر اسلامی پیشگوئی کا خوف غالب آ گیا تھا تو جواب اس کا یہ ہے کہ جب خدا نے مجھے اطلاع دی