سراجِ منیر — Page 8
روحانی خزائن جلد ۱۲ سراج منیر اب اس سے زیادہ بدذاتی کیا ہوگی کہ باوجود ایسے صاف صاف واقعات کے پھر کہا جاتا ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ لعنة اللہ علی الکاذبین ۔ رجوع کا لفظ جو شرط میں داخل ہے ایک دل کا فعل تھا جو اسی وقت سے شروع ہو گیا تھا۔ کھلے کھلے اسلام کا شرط میں کہاں لفظ ہے کیا ایک مشرک ایسی سخت پیشگوئی کے وقت مستقیم رہ سکتا تھا۔ ہر یک کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ پیشگوئی اسی دن سے شروع نہیں ہوئی بلکہ براہین احمدیہ میں بارہ برس پہلے اس کی خبر دی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی لیکھرام کی پیشگوئی کی خبر تھی ۔ اگر تم غور سے صفحہ (۲۳۹) اور (۲۴۰) اور (۲۴۱) براہین احمدیہ کا پڑھ تو یہ تمام نقشہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا آثار سابقہ اور احادیث نبویہ میں مہدی آخر زمان کی نسبت یہ لکھا گیا تھا کہ اوائل حال میں اس کو بے دین اور کافر قرار دیا جائے گا۔ اور لوگ اس سے سخت بغض رکھیں گے اور مذمت کے ساتھ اس کو یاد کریں گے اور دجال اور بے ایمان اور کذاب کے نام سے اس کو پکاریں گے اور یہ سب مولوی ہوں گے ۔ اور اس دن مولویوں سے بدتر زمین پر اس امت میں سے کوئی نہیں ہوگا سو کچھ مدت ایسا ہوتا رہے گا۔ پھر خدا آسمانی نشانوں سے اس کی تائید کرے گا۔ اور اس کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ خلیفة الله المهدی ہے۔ مگر کیا آسمان بولے گا جیسا انسان بولتا ہے؟ نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہیبت ناک نشان ظاہر ہوں گے جن سے دل اور کلیجے ہل جائیں گے ۔ تب خدا دلوں کو اس کی محبت کی طرف پھیر دے گا اور اس کی قبولیت زمین میں پھیلا دی جائے گی ۔ یہاں تک کہ کسی جگہ چار آدمی مل کر نہیں بیٹھیں گے جو اس کا ذکر محبت اور ثناء کے ساتھ نہ کرتے ہوں ۔سو براہین کے یہ صفحات مذکورہ بالا انہیں واقعات کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ اول مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ لوگ تجھ کو گمراہ اور جاہل اور شیطانی خیال کا آدمی خیال کریں گے۔ دکھ دیں گے اور طرح طرح کی باتیں بولیں گے اور ٹھٹھے کریں گے۔ اور پھر فرمایا کہ میں سب ٹھٹھا کرنے والوں کے لئے کافی ہوں گا ۔ اور پھر فرمایا قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ان دنوں میں آسمانی نشانیاں ظاہر ہوں گی ۔ پھر بعد اس کے صفحہ ۲۴۱ میں آتھم کی نشانی کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی خبر دے دی کہ اس نشان پر عیسائیوں اور یہودی صفت