شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 548

شحنۂِ حق — Page 399

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۸۵ شحنه حق ہندوؤں کے لئے بات کرنے کے لئے ایک گنجائش نکل آئے گی بہر حال اب ہمارے مخالف آریہ اس تجویز کو خواہ منظور کریں یا نہ کریں لیکن یا درکھیں کہ اگر فیصلہ منظور ہے تو ہزار بل پھیر کھا کر آخر اسی راہ پر قدم مارنا پڑے گا ۔ ہندی مثل مشہور ہے سر جُھٹے اور کوڑ نکھٹے جلسہ عام میں نمونہ مذکورہ کی قسم کھا لینا بس حد ہے جس سے فیصلہ ہو جائے گا ورنہ کس قدر حیا اور شرم سے دور ہے کہ محض جھوٹے افتراؤں کے ذریعہ سے کوشش کی جائے کہ تمام الہامات فن وفریب سے بنائے جاتے ہیں خیال کرنا چاہیے کہ اس بھلے مانس ہندو نے اپنے اس رسالہ میں جس کا نام فن و فریب غلام احمد کی کیفیت رکھا ہے کس قدر دروغ بے فروغ کی اپنے دل سے ہی عمارت بنالی ہے جس کو وہ اپنے اس رسالہ کے صفحہ ۲۴ میں لکھتا ہے چنانچہ بجنس عبارت اُس کی ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ اب تازہ الہام سُنیے قادیان میں جان محمد کشمیری مرزا کی مسجد کے امام کا پانچ سالہ لڑکا سخت بیمار ہو کر قریب المرگ ہو گیا تھا اُس وقت کی حالت زار دیکھ کر بیوقوف سے بیوقوف اُس کو کوئی دم کا مہمان جانتا تھا اس حال پر اختلال میں امام صاحب مرزا کے پاس گئے اور مرزا پہلے اس لڑکے کو بچشم خود بھی دیکھ چکا تھا۔ امام صاحب نے کل حال مکرر عرض کر کے کہا کہ آپ مجیب الدعوات ہیں (اس لفظ سے اس ہندو کی لیاقت علمی ظاہر ہے ) دُعا کیجئے ۔ مرزا نے فرمایا کہ آپ کے آنے سے اول ہی الہام ہوا کہ اس لڑکے کے لئے قبر کھو دو ۔ مرزا کے مونہہ سے یہ کلمہ نکلنا ہی تھا کہ امام صاحب کے ہوش باختہ ہو گئے ۔ واقعی کیوں نہ ہوتے کہ فقط یہی ایک لڑکا تھا وہ بھی پچھلی عمر کا مرزا تو نیم حکیم خطرہ جان ہی تھا ۔ مگر خدا بھی جھوٹوں کو جھوٹا کرنے کے لئے