شحنۂِ حق — Page 384
روحانی خزائن جلد ۲ شحنه حق اس چٹھی کو دیکھ کر پنڈت جی سمجھ گئے کہ اب یہ ہماری بری طرح خبر لے گا۔ اسی وقت کچھ قدر قلیل بھیج کر راضی کرنا چاہا مگر وہ کب راضی ہوتا تھا۔ اسی وقت اس نے ایک لمبا چوڑا اشتہار چھپوایا جس کا ایک پرچہ ہمارے قادیان میں بھی آیا تھا اس پر چہ میں بھی سنیاسی صاحب کی اس کارروائی کا بہت کچھ ذکر تھا پنڈت دیا نند نے اس کا جواب چھپوایا اس طرف (۳۳) سے ایک ایسا جواب الجواب چھپا جس سے پنڈت صاحب کی دروغ گوئی کی ساری حقیقت کھل گئی۔ اس کے بعد پنڈت جگناتھ نے دیانندی فریبوں کا ایک رسالہ مشتہر کیا جس کو پڑھ کر کل آریہ سماجوں میں ایک تہلکہ پڑ گیا ۔ اسی اثناء میں لوگوں کو یہ بھی خبر ملی کہ در حقیقت یہ شخص رکابی مذہب ہے کبھی تاریخ کا قائل کبھی منکر کبھی پیشو فرقہ کے تائید میں کبھی شیبو پنتھ کے حمایت میں اور کبھی دہریوں کا مددگار ۔ غرض پیٹ کے دکھ سے کبھی کچھ کبھی کچھ جیسا کہ دھرم جیون دسمبر ۱۸۸۳ء میں اس کی تفصیل ہے۔ ان باتوں کے سننے سے لوگوں کے دل ٹوٹ گئے اور صرف احمق لوگ پھنسے رہ گئے اور باقی سب دانا دیا نندی بیچ سے نکل گئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ دیا نند کی موت کا اصلی موجب یہی ندامتیں تھیں جو یک بیک اس کو اپنی کرتوتوں سے اٹھانی پڑیں۔ اب اپنے سنیاسی صاحب سے ہماری کارروائی کا مقابلہ کر لینا چاہیے اگر ہم نے لاله بشن داس کو لکھا بھی کہ تم نے یہ امر مخفی رکھنا تو کیا ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ دوسروں کا روپیہ مارلیں اور اگر یہی بات ہوتی کہ ہم بابو محمد صاحب اور منشی عبدالحق صاحب کو ان کا روپیہ دینا نہیں چاہتے تھے تو پھر کیوں اسے انبالہ چھاؤنی میں انہیں روپیہ لینے کے لئے پیغام دیا جاتا ۔ دونوں صاحبان ایمانا اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ اول ہم نے بابو محمد صاحب کو میاں فتح خان کی معرفت اور شاید خود بھی اپنا روپیہ لینے کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا کچھ قرضہ نہیں میں نے سب کچھ بطور امداد دیا ہے۔ پھر منشی عبدالحق صاحب کی خدمت میں لکھا گیا کہ اب روپیہ آتا جاتا ہے آپ