شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 548

شحنۂِ حق — Page 376

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۲ شحنه حق عدل کا معاملہ کرو یعنی حق اللہ اور حق العباد بجالاؤ اور اگر اس سے بڑھ کر ہو سکے تو صرف عدل بلکہ احسان کرو یعنی فرائض سے زیادہ اور ایسے اخلاص سے خدا کی بندگی کرو کہ گویا تم اس کو دیکھتے ہو اور حقوق سے زیادہ لوگوں کے ساتھ مروت و سلوک کرو اور اگر اس سے بڑھ کر ہو سکے تو ایسے بے علت و بے غرض خدا کی عبادت اور خلق اللہ کی خدمت بجالاؤ کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے کرتا ہے ۔ قوله - اکثر عیسائی اور اہل اسلام بھی متفق ہیں کہ سب علوم و فنون آریوں سے تمام جہان میں پھیلے ہیں ۔ اقول ۔ اول تو یہ بات ہی غلط ہے کیوں کہ (۲۲) انگریزوں کا اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ انگلستان میں علوم و فنون کا پودہ عرب کے عالیشان مدارس سے آیا ہے اور دسویں صدی میں جب کہ یورپ جہالت میں پڑا ہوا تھا ۔ اہل یورپ کو تاریکی جہالت سے علم عقل کی روشنی میں لانے والے مسلمان ہی تھے ۔ (دیکھو صفحه ۹۵ کتاب جان ڈیون پورٹ صاحب ) ایسا ہی رائے بہادر ڈاکٹر چین شاہ صاحب آنریری سرجن اور ڈاکٹر د تامل صاحب سول سرجن پنجاب ریویو جلد نہم میں لکھتے ہیں کہ اہل یورپ کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ تمام علوم فلسفه طب وغیرہ بذریعہ اہل عرب ان تک پہنچے ہیں ۔ کمسٹری یعنی علم کیمیا بھی اہل یورپ نے عروج سلطنت اسلامیہ میں عربوں سے حاصل کیا ہے ۔ اگر چہ ہندی طبابت نے ا ( جو بزعم آریوں کے ویدوں سے لی گئی ہے ) جو ہماری اپنی وطنی طبابت ہے یونانی اور انگریزی طبابت سے کوئی چیز عاریتاً نہیں لی لیکن یہ اس کا مستعار نہ لینا اس کے فخر کا باعث نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں اسی قدرنقص اور خرابیاں سہو کتابت معلوم ہوتا ہے نہ صرف “ہونا چاہیے۔(ناشر)