شحنۂِ حق — Page 375
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۱ شحنه حق ویدوں کے لئے کچھ موجب عزت نہیں بلکہ باعث رسوائی وذلت ہے کیونکہ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ہندی علوم کا مخرج و مبدء دید ہی ہیں تو پھر وہ ساری (۲۵) غلطیاں جونئی روشنی کی فلاسفی نے ان پرانے علموں میں نکالی ہیں وہ سب داغ علامت کی طرح وید کی پیشانی پر وارد ہوں گی ۔ ہم ناظرین کو یقین دلاتے ہیں کہ ویدوں میں بجز مشر کا نہ تعلیم کے کوئی معرفت اور حکمت کا بیان نہیں ۔ سب سے پہلے کتاب الہی اپنی اسی ذمہ واری میں آزمائی جاتی ہے کہ وہ معارف دینی کو جیسا کہ ان کی ضرورت ہے تفصیل و توضیح سے بیان کرے نہ یہ کہ دعویٰ تو کرے دینی رہنما ہونے کا اور پھر عاجز ہو کر کہے کہ یہ تو نہیں مگر ریل کا انجمن مجھے ضرور بنانا آتا ہے بھلا اگر آریوں کو خدائے تعالیٰ نے کچھ بھی غیرت کا مادہ بخشا ہے تو قرآن شریف کی ان دو آیات کا ہی مضمون کسی اپنے وید سے بحوالہ نام وید وانو کا وسکت وغیرہ نکال کر دکھلائیں ۔ چنانچہ ان میں سے ایک یہ ہے۔ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ الجز و نمبر ۲۴ تم نہ سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی بلکہ فقط اس ذات قدیم کی پرستش کر وجس نے ان تمام علوی وسفلی چیزوں کو وجود بخشا ہے ۔ ہم بدعویٰ کہتے ہیں کہ ویدوں میں مضمون اس صداقت کا ہرگز نہیں نکلے گا ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے پر میشر کی دونوں ٹانگیں تو ڈ رکھی ہیں نہ وہ اپنی پرستش میں شراکت غیر سے محفوظ ہے نہ اپنی قدامت اور غیر مخلوق ہونے میں ۔ دوسری آیت یہ ہے ۔ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَائِ ذِي الْقُرْبى الجز ۱۴ ۔ خدا کا تمہیں یہ حکم ہے کہ تم اس سے اور اس کی خلقت سے حم السجدة : ٣٨ النحل : ٩١