شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 548

شحنۂِ حق — Page 355

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۱ شحنه حق کی عزت کا انہیں کیا پاس ہو گا ۔ ان کے حق میں یہ شعر کیا ہی خوب صادق آتا ہے۔ تو بدوستان چه کردی کہ کنی بدیگراں ہم حقا کہ واجب آمد ز تو احتراز کردن سو ہمیں ان لوگوں کی تو ہین کی باتوں پر تو کچھ خیال نہیں اور نہ کچھ افسوس لیکن اتنا ضرور ہے کہ جب کوئی نادان ہو کر دانائی کا دعوی کرے اور جاہل ہو کر عالم ہونے کا دم مارے اور دروغگو ہو کر راست گو بن بیٹھے اور چور ہو کر الٹا کوتوال کو ڈانٹے تو ایسا شخص ہر ایک کو برا معلوم ہوتا ہے ، اور علی ھذا القیاس ہم کو بھی ۔ رہی یہ بات کہ ان کی عقل عجیب کے نزدیک قرآن شریف علم الہی سے خالی اور وید علوم و معارف سے بھرا ہوا ہے تو اس کا فیصلہ تو خود مقابلہ وموازنہ سے ہو جائے گا۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے ۔ ہم خود منتظر تھے کہ ایسا فیصلہ جلد تر ہو جائے ۔ سو آریہ صاحبوں نے اس کے لئے آپ ہی سلسلہ جنبانی کی ۔ پس ہم ان کی اس تحریک 1 کے اور سلسلہ جنبانی کو بہ تمام تر شکر گزاری قبول کرتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ انشاء اللہ ہم بفضل و توفیق ایزدی جون ۱۸۸۷ء کے مہینے سے برطبق درخواست ان کے ایسا رسالہ ماہواری شائع کرنا شروع کر دیں گے لیکن ساتھ ہی ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ جب وہ رسالہ قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ شائع ہونا شروع ہو تو پھر لالہ صاحبان مقابلہ سے کہیں بھاگ نہ جائیں اور اپنے وید کی حمایت کرنے کو تیار رہیں ۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آج کل ہمارے ہم وطن آریوں کو جس قدر ویدوں کی نسبت جوش و خروش ہے وہ دراصل ایک ہی شخص کی لاف زنی کی بنا پر ہے کہ جو اس دنیا سے گز ربھی گیا ور نہ ان کی نسبت تو یہی مثال ٹھیک ہے کہ دیکھا نہ بھالا صدقے گئی خالا نقل بمطابق اصل ۔ سرمہ چشم آریہ میں یہ شعر اس طرح ہے' با دوستاں چہ کردی ۔۔۔۔۔ (ناشر)