شحنۂِ حق — Page 354
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۰ شحنه حق میں ڈوبا ہوا ہو وہ قرآن شریف پر اعتراض کریں ۔ کیا یہ افسوس کا مقام ہے یا نہیں ۔ ہمیں ان کی سخت کلامی کا تو کچھ بھی رنج نہیں اور نہ کرنا چاہیے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی پر دس روپیہ کی ڈگری بھی کسی عدالت سے ہو جاتی ہے تو وہ اپنی بد باطنی سے اپنے گھر تک اس حاکم کو برا بھلا کہتا چلا آتا ہے پس جبکہ ادنیٰ خلاف طبع بات پر جاہلوں کے جوش کا یہ حال ہے تو پھر ہم جو ان کی بد مذہبی کی بیخ کنی کر رہے ہیں ہم کو اگر برا نہ کہیں تو اور کس کو کہیں اور نیز جبکہ انہوں نے اپنے مشہور بزرگوں راجہ رام چندر صاحب اور راجہ سری کرشن صاحب کو جو سر آمد بزرگان ہنود ہیں ۔ جن کی شہرت کے آگے وید کے رشیوں کا کچھ بھی وجود اور نمودنہیں علانیہ برا بلکہ آریہ گزٹ ۱۸۸۶ء میں جس کا ثبوت ہم رکھتے ہیں کتنے بیتوں میں گندیاں گالیاں دیں اور ایسا ہی دیا نند نے اپنی ستیارتھ پر کاش میں صفحہ ۳۵۶ میں با وانا تک صاحب کا نام فریبی اور مکار رکھا تو پھر ایسے لوگوں پر ہمیں کچھ بھی افسوس نہیں کرنا چاہیے ۔ وجہ یہ کہ جب کہ یہ لوگ جن میں سے بعض نے بڑے بڑے کیس بھی سر پر رکھ چھوڑے ہیں اور کشن سنگھ اور بشن سنگھ و نرائن سنگھ نام رکھ لیا ہے خود اپنے گورو کو ہی یہ انعام دیتے ہیں تو پھر دوسری جگہوں میں یہ کب چوکنے والی آسامی ہیں ۔ جنہوں نے چیلا ہو کر اپنے پرانے پیشواؤں کو یہ خلعت دی کہ وہ ٹھگ اور فریبی ہیں تو وہ دوسروں سے کس صاف باطنی سے پیش آئیں گے اور جبکہ اپنے مرشد کی ہی پگڑی اتارنے لگے تو غیروں نوٹ اس بے ادبی کا ذکر پر چہ دھرم جیون ۶ / مارچ ۱۸۸۷ء میں بھی موجود ہے کہ ستیارتھ پر کاش میں بڑے لائق دیانند جی نے ہاوا نا تک صاحب کو مکار کہا ہے۔ منہ ۔