شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 548

شحنۂِ حق — Page 345

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۱ شحنه حق طرف سنسکرت پڑھنے کا مادہ نہیں رکھتے ۔ سارا مدار لاف و گزاف پر ۔ تین بکائن اور لالہ جی باغ میں انصاف سے دیکھنا چاہیے کہ مسلمان جس پاک اور کامل کتاب پر ایمان لائے ہیں کس قدر اس مقدس کتاب کو انہوں نے اپنے ضبط میں کر لیا ہے عموماً تمام مسلمان ایک حصہ کثیر قرآن شریف کا حفظ رکھتے ہیں جس کو پنچ وقت مساجد میں نماز کی حالت میں پڑھتے ہیں۔ ابھی بچہ پانچ یا چھ برس کا ہوا جو قرآن شریف اس کے آگے رکھا گیا ۔ لاکھوں آدمی ایسے پاؤ گے جن کو سارا قرآن شریف اوّل سے آخر تک حفظ ہے اگر ایک حرف بھی کسی جگہ سے پوچھو تو اگلی پچھلی عبارتیں سب پڑھ کر سنا دیں۔ اور مردوں پر کیا موقوف ہے ہزاروں عورتیں سارا قرآن شریف حفظ رکھتی ہیں۔ کسی شہر میں جا کر کہ میں جان کو دوست نہیں رکھتا میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا خدا کے بقیه حاشیه لئے ہے وہی حقدار خدا جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے ہاں یہ دھمکیاں ان دلوں پر کارگر ہوسکتی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینا نہیں چاہتے کیونکہ اس کی طرح قدیم اور انا دی اور غیر مخلوق بنے بیٹھے ہیں اور اس کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس حق گزاری کے لائق ہو اور جبکہ اس سے انہیں پیار نہیں تو پھر اپنی زندگی سے پیار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس قسم کی ویدوں میں دعائیں ہیں جیسے رگوید اشک اول میں یہ دعا ہے ، اسے اگنی تو ایسا کر کہ ہم ننوا جاڑوں تک زندہ ر ہیں اور اپنے سارے دشمنوں کو مار ڈالیں ۔ اور ان کا مال لوٹ لیں مگر جو لوگ پاک تعلیم کے اثر سے غیروں سے قطع تعلق کر کے احکام الہی کے خادم ہو جاتے ہیں ان میں اس فانی زندگی کی نسبت خود ہی سرد مہری پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہم اس جگہ تک تحریر کر چکے تھے کہ پرچہ دھرم جیون ۶ / مارچ ۸۷ء پہنچا اور اس کے پڑھنے سے معلوم ہوا کہ آریوں کی طرف سے ایک اعلان پنڈت شو نارائن صاحب کے قتل کے لئے بھی جاری کیا گیا ہے۔ اس سزائے موت کے لئے ان کے