شہادة القرآن — Page 434
سید صاحب دعاؤں کی فلاسفی سے بے خبر ہیں ۸ استجابت دعاکی فلاسفی خدا سے تعلقات صدق ومحبت رکھنے والے کو معلوم ہوسکتی ہے ۱۵ح گناہ کی فلاسفی ۲۰۸ لوگ نئے فلسفہ اور پادریوں کے وساوس سے ہلاک ہوئے ۳۷۴ فلسفہ کے زہر نے مسلمانوں کے اعتقاد کی بیخ کنی کر دی ہے ۳۷۶ قانون قدرت قدرت اسی کا نام ہے کہ اس کے تصرفات مخلوق پر ہر آن غیر محدود ہیں ۲۷ سید صاحب کو قانون قدرت پر بڑا ناز تھا تفسیر میں اس کا لحاظ چھوڑ گئے ۲۵ قانون قدرت ہے کہ ہرایک جاندار کی اولاد اس کی نوع کے موافق ہوا کرتی ہے ۹۲ قانون الٰہی کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا ہوتاہے ۲۰۷ قانون قدرت سے اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ۲۱۰ قرآن کریم ۷،۱۲،۱۸،۲۱،۵۲،۶۳،۷۰،۱۰۰،۱۳۵،۱۷۶،۲۲۴،۲۹۷ تفسیر قرآن کے سات معیار ۱۷ قرآن کریم کے معارف ظاہرہورہے ہیں ۲۴ قرآن کریم کی اسلام کی نسبت آیات ۸۵ قرآن کریم کی تعریف میں قرآنی آیات ۸۶ قرآن غیب پر مشتمل اور غیبی قوت عطا کرتاہے ۸۷ جس کتاب کو خدا کی طرف منسوب کریں وہ انسانی کمزوریوں سے مبّراچاہیے ۸۸ قرآن میں موسیٰ ؑ کا آگ کا واقعہ ۱۰۷،۱۱۱،۱۱۲ قرآن کریم سے الوہیت مسیح کے تردیدی دلائل ۱۳۷ الوہیت کی تردیدمیں قرآنی تعلیم ۱۷۸ قرآن کریم بے شمار دلائل سے اپنی حقانیت ثابت کرتاہے ۱۷۹ قرآن نے بیماروں پرہاتھ رکھ کراچھاکرنے کی نشانی نہیں رکھی ۱۵۴ قرآن کی فصاحت وبلاغت پرآتھم کااعتراض ۲۲۷ قرآن پرجبرکااعتراض نہیں ہوسکتا ۲۵۲ قرآن کا جائز رکھنا کہ خوف زدہ ایمان کا اظہار نہ کرے اس کی وضاحت ۲۷۶ قرآن نے مردوں کو زندہ کیا اور باطل خیالات کو مٹایا ۲۸۰ نزول قرآن کے وقت پھیلنے والے مشر کانہ عقائد ۲۴۰ قرآن کے کلام اللہ ہونے کی نسبت تین ثبوت ۲۸۸ (۱) پیش از وقت نبیوں کی خبر دینا (۲)قرآن کا ضرورت حقہ کے وقت پر آنا (۳) اس کی تعلیم کا کامل ہونا قرآن نے اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کیاہے ۲۸۹ آتھم کا دعویٰ کہ قرآن میں فصاحت نہیں ۲۲۷ قرآن کی فصاحت و بلاغت ۲۹۱ قرآن کریم کاعام محاورہ ہے کہ دنیاکے قصہ کے ساتھ آخرت کاقصہ پیوند کیا جاتا ہے ۳۱۱ح احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کریم کے لئے ظہر بھی ہے اور بطن بھی ۳۱۹ قرآن کی ہدایتیں اس وجود سے وابستہ ہیں جس پر یہ نازل ہوا ۳۴۷ قرآن کے ہوتے ہوئے معلم القرآن کی ضرورت ۳۴۸ اگر آنحضرتؐکے بعد ایسے معلم نہیں آئے جنمیں ظلی نورنبوت تھاتو خدا نے عمدًا قرآن کوضائع کیا ۳۵۰ قرآن میں مفتری کے جلد ہلاک ہونے کے بارہ میں فرمان ۳۷۱ قرآن کریم کی تعلیم قرآن کریم کا تعلیم کی جامعیت اور کاملیت کادعوٰی ۸۸ قرآن کریم کااپنی کمال تعلیم کادعویٰ ۱۲۳ قرآنی تعلیم کاکامل ہوناکیونکرہے ۱۲۶ قرآن سے پہلی تعلیمیں مختص القوم یا مختص الزمان تھیں ۱۲۶ قرآن تمام قوموں اورزمانوں کی تعلیم اورتکمیل کیلئے ہے ۱۲۷ قرآنی تعلیم کہ عفواورانتقام موقع محل کے مطابق ہو ۱۲۷ نجات کے بارہ میں قرآنی تعلیم ۱۴۳ تعلیم قرآنی کاموضوع توحید پھیلانااورشرک کومٹاناہے ۲۴۰ قرآن سے بائیبل وانجیل کی تعلیم کا موازنہ ۲۸۸ احکام قرآنی جن میں خطاب بظاہر صحابہ سے ہے ۳۳۵‘۳۳۷