شہادة القرآن — Page 426
دار لنجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہے ۵۳ جنگ مقدس اسلام اور عیسائیت کے درمیان ایک معرکۃ الآراء مباحثہ جو دونوں مذاہب کے نمائندگان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پادری عبد اللہ آتھم کے درمیان ہوا اور ۲۲؍مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہو کر ۵ جون ۱۸۹۳ء کو ختم ہوا ۸۳ مناظرہ کی غرض اور مدّعا تقریر حضرت مسیح موعود ؑ ۸۵ حضرت مسیح موعود ؑ کے تحریر فرمودہ پرچے ۸۹،۹۷،۱۱۳،۱۲۳، ۱۳۲،۱۴۳،۱۵۱،۱۶۴،۱۷۸،۱۹۵،۲۰۷، ۲۱۸،۲۲۹،۲۳۹،۲۵۰،۲۶۲،۲۷۴،۲۸۶ عبد اللہ آتھم کے تحریر کردہ پرچے ۹۳،۱۰۹،۱۱۸،۱۲۸، ۱۴۰،۱۴۹،۱۶۰،۱۷۱،۱۸۵،۱۹۴،۲۱۴۲۰۲، ۲۲۵،۲۳۶،۲۴۶،۲۵۷،۲۶۹،۲۸۲، جہاد اسلام نے تلوار اٹھانے میں سبقت نہیں کی بلکہ امن کے قیام کے لئے اٹھائی ۴۶،۲۵۶ جہاد پر اعتراض طریق مناظرہ کے مخالف ہے (مسیح موعودؑ ) ۲۳۴ اسلامی لڑائیاں کرنے کی وجوہات ۲۴۴ اسلامی جنگوں کے دوران دی جانے والی رعائتیں ۲۶۳ لڑائیوں میں قتل کی دھمکی دے کر مسلمان کرنے کا ارادہ نہ تھا ۲۴۵ جہاد کی بنا امن قائم کرنے ،بتوں کی شان توڑنے اور مخالفانہ حملہ روکنے کے لئے ہے ۲۵۴ جہاد کے تدریحی احکامات سے متعلقہ آیات قرآنیہ ۲۵۵ جنگ احد ۲۳۲ اہل کتاب کے گناہوں کی فہرست جس بنا پر ان سے لڑائی کو جائز قرارد یا گیا ۲۵۶ بنی اسرائیل کی لڑائیوں میں کئی لاکھ بچے بے گناہ قتل کئے گئے ۲۵۶ موسیٰ کی لڑائیوں میں امان بشرط ایمان نہ تھا ۲۶۹ مشرکین عرب کے ظالمانہ رویہ کے مقابل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کانرم اورپُررحم سلوک ۲۶۴،۲۶۵ مسیح کے وقت دین کے لئے تلوار مناسب نہ تھی ایسے ہی اب بھی ۳۷۴ اس وقت تلوار کا ایمان معتبر نہیں انگریزوں نے تلوار سے کسی کومذہب میں داخل نہیں کیا ۳۷۴ خدا نے مسلمانوں کی حالت کے مطابق مسیح کی مانند بغیر سیف وسنان کے مصلح بھیجا ۲۷۵ گورنمنٹ سے جہاد درست ہے یا نہیں ۳۸۰ ڈاکٹر ہنٹر کا دعویٰ کہ مسلمان انگریزوں سے جہا دفرض سمجھتے ہیں ۳۷۸ح گورنمنٹ انگریزی سے لڑائی اور جہاد قطعی حرام ہے ۳۸۹ح دینی جہاد سے اصل غرض آزادی قائم کرنا اور ظلم دور کرنا ہے ۳۹۲ح ح، خ حدیث قرآن اورحدیث رسول میں فرق ۲۰ح احادیث زمانہ دراز کے بعد جمع کی گئی ہیں اکثر مجموعہ احاد ہے مفید یقین نہیں ۲۹۷،۲۹۸ اہل سنت کی احادیث کوشیعہ احادیث سے ملانے سے تواتر کی قوت ثابت ہوتی ہے ۲۹۸ احادیث اگر قرآن کے معارض نہ ہوں توانہیں قبول کرنالازم ہے ۳۰۰ احادیث سے کوئی یقینی صداقت نہ ملنے کاخیال اسلام کا بہت ساحصہ نابودکرناہے ۳۰۰ احادیث کاسلسلہ تعامل کے سلسلہ کی فرع اوراطراد بعدالوقوع کے طورپرہے ۳۰۱ نماز کی رکعات اور پڑھنے کا مدار احادیث پر ہے ۳۰۲ ائمہ حدیث نے دینی تعلیم کی نسبت ہزارہاحدیثیں لکھیں ۳۰۳ احادیث کی روسے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کانام عیسیٰ بن مریم ہوگا ۲۹۸