شہادة القرآن — Page 379
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۷۷ شهادة القرآن ہیں خدائی کام اور الہی قدرتیں اُن کی نظر میں ہنسی کے لائق ہیں۔ ایسا ہی میاں عطا محمد کا حال (۸۲) ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ جب بمقام امرت سرمسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو ان کی موت کی نسبت پیشگوئی سنائی گئی تو میاں عطا محمد نے میرے فرودگاہ میں آکر میرے رو برو ایک مثال کے طور پر بیان کیا کہ ایک ڈاکٹر نے میری موت کی خبر دی تھی کہ اتنی مدت میں عطا محمد فوت ہو جائے گا مگر وہ مدت خیر سے گزرگئی اور میں نے اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کو سلام کیا اُس نے کہا کہ تم کون ہے۔ میں نے کہا وہی عطا محمد جس کے مرنے کی آپ نے پیشگوئی کی تھی ۔ مطلب یہ کہ یہ تمام امور جھوٹ اور لغو ہیں مگر میاں عطا محمد کو یا در ہے کہ ڈاکٹر کی مثال اس جگہ دینا صرف اس قدر ثابت کرتا ہے کہ آسمانی روشنی سے آپ بکلی بے خبر ہیں بیشک ایک ہستی موجود ہے جس کا نام خدا ہے اور وہ اپنے بچے مذہب کی تائید میں نہ صرف کسی زمانہ محدود تک بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقت میں آسمانی نشان دکھلاتا ہے اور دنیا کا ایمان نئے سرے قائم کرتا ہے۔ ڈاکٹر کی مثال سے ظاہر ہے کہ آپ کا اُس خدا پر ایمان کس قدر ہے۔ اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس رسالہ کو اسی جگہ ختم کر دوں۔ فَالحَمْدُ لِلَّهِ أَوَّلًا وَاخِرًا وَظَاهِرًا وَبَاطِئًا هُوَ مَوْلَانَا نِعم المولى وَنِعْمَ النَّصِيرُ۔ المؤلّ عاجز غلام احمد قادیانی ۲۲ ستمبر ۱۸۹۳ء مقام قادیان روز جمعه