شہادة القرآن — Page 378
روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن (۸۱) انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں سواگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمان کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں (۱) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (۲) اور پھر داماد اُس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (۳) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (۴) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (۵) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو (۶) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔ اور اگر اب بھی یہ تمام ثبوت میاں عطامحمد صاحب کے لئے کافی نہ ہوں تو پھر طریق سہل یہ ہے کہ اس تمام رسالہ کو غور سے پڑھنے کے بعد بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو اطلاع دیں کہ میری تسلی ان امور سے نہیں ہوئی اور میں ابھی تک افتر اسمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو میں انشاء اللہ القدیر اُن کے بارہ میں توجہ کروں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے مقابل پر مجھے مغلوب نہیں کرے گا کیونکہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کے دین کی تجدید کے لئے اُس کے حکم سے آیا ہوں لیکن چاہیے کہ وہ اپنے اشتہار میں مجھے عام اجازت دیں کہ جس طور سے میں ان کے حق میں الہام پاؤں اس کو شائع کرا دوں اور مجھے تعجب ہے کہ جس حالت میں مسلمانوں کو کسی مجدد کے ظاہر ہونے کے وقت خوش ہونا چاہیے یہ بیچ وتاب کیوں ہے اور کیوں ان کو برا لگا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی حجت پوری کرنے کیلئے ایک شخص کو مامور کر دیا ہے لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ حال کے اکثر مسلمانوں کی ایمانی حالت نہایت رڈی ہو گئی ہے اور فلسفہ کی موجودہ زہر نے ان کے اعتقاد کی بیخ کنی کر دی ہے ان کی زبانوں پر بے شک اسلام ہے لیکن دل اسلام سے بہت دور جا پڑے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” کی “ زائد ہے۔(ناشر)