شہادة القرآن — Page 324
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲۲ شهادة القرآن منجملہ اُن کے یہ آیت ہے إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمُ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً اب ظاہر ہے کہ گما کے لفظ سے یہ اشارہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں۔ چنانچہ توریت باب استثنا میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ لکھا ہے اور ظاہر ہے کہ مماثلت سے مراد مماثلت تامہ ہے نہ که مماثلت نا قصہ کیونکہ اگر مماثلت ناقصہ مراد ہو تو پھر اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہتی وجہ یہ کہ ایسی مماثلت والے بہت سے نبی ثابت ہوں گے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم سے تلوار بھی اُٹھائی اور حضرت موسیٰ کی طرح جنگ بھی کئے ۔ اور عجیب طور پر فتحیں بھی حاصل کیں مگر کیا وہ اس پیشگوئی کے مصداق ٹھہر سکتے ہیں ہرگز نہیں۔ غرض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ جب مماثلت سے مماثلت تامہ مراد ہو۔ اور مماثلت تامہ کی عظیم الشان جزوں میں سے ایک یہ بھی جزو ہے کہ اللہ جل شانہ نے حضرت موسی کو اپنی رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور ا کرام و انعام خلافت ظاہری اور باطنی کا ایک لمبا سلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا جو قریباً چودہ سو برس تک ممتد ہو کر آخر حضرت عیسی علیہ السلام پر اُس کا خاتمہ ہوا اس عرصہ میں صدہا بادشاہ اور صاحب وحی اور الہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ شریعت موسوی (۲۷) کے حامیوں کی ایسے عجیب طور پر مدد کرتا رہا جو ایک حیرت انگیز یادگار کے طور پر وہ باتیں صفحات تاریخ پر محفوظ رہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتب وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ثُمَّ قَفَيْنَا عَلَى أَثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاتَيْنَهُ الْإِنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأفَةً وَرَحْمَةً یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بہت سے رسل اس کے پیچھے آئے پھر سب کے بعد عیسی بن مریم کو بھیجا اور اُس کو انجیل دی اور اُس کے تابعین کے دلوں میں رحمت اور شفقت رکھ دی یعنی وہ تلوار سے نہیں بلکہ اپنی تواضع اور فروتنی اور اخلاق سے دعوت دین کرتے تھے اس آیت میں اشارہ المزمل : ٢١٦ البقرة : ۸۸ ۳ الحديد : ۲۸