شہادة القرآن — Page 320
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۱۸ شهادة القرآن استعداد میں ظہور و بروز میں آجائیں گی جیسا کہ پہلے اس سے ابھی تفصیل اس کی ہو چکی ہے۔ وَإِذَا الْعِشَارُ عُظلت کے یعنی اُس وقت اُونٹنی بر کا ر ہو جائے گی اور اُس کا کچھ قدر و منزلت نہیں رہے گا۔ عشار حملد ار اونٹنی کو کہتے ہیں جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت سے اس آیت کو کچھ بھی تعلق نہیں کیونکہ قیامت ایسی جگہ نہیں جس میں اُونٹ اونٹنی کو ملے اور حمل ٹھہرے بلکہ یہ ریل کے نکلنے کی طرف اشارہ ہے اور حملدار ہونے کی اس لئے قید لگادی کہ تا یہ قید دنیا کے واقعہ پر قرینہ قویہ ہو اور آخرت کی طرف ذرہ بھی و ہم نہ جائے وَإِذَا الصُّحُفُ نُشرت " اور جس وقت کتابیں منتشر کی جائیں گی اور پھیلائی جائیں گی یعنی اشاعت کتب کے وسائل پیدا ہو جائیں گے۔ یہ چھاپے خانوں اور ڈاک خانوں کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہو جائے گی ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ اور جس وقت جانیں باہم ملائی جائیں گی۔ یہ تعلقات اقوام اور بلاد کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں باعث راستوں کے کھلنے اور انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو ملے گی اور دور دور کے رشتے اور تجارتی اتحاد ہونگے اور بلاد بعیدہ کے دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے ۔ وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ " (۲۳) اور جس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے کئے جائیں گے مطلب یہ ہے کہ وحشی قو میں تہذیب کی طرف رجوع کریں گی اور اُن میں انسانیت اور تمیز آئے گی اور اراذل دنیوی مراتب اور عزت سے ممتاز ہو جائیں گے اور باعث دنیوی علوم و فنون پھیلنے کے شریفوں اور رذیلوں میں کچھ فرق نہیں رہے گا بلکہ رذیل غالب آجائیں گے یہاں تک کہ کلید دولت اور عنان حکومت ان کے ہاتھ میں ہوگی اور مضمون اس آیت کا ایک حدیث کے مضمون سے بھی ملتا ہے ۔ وَإِذَا الْبِحَارُ فَجَرَتْ اور جس وقت دریا چیرے جاویں گے یعنی زمین پر نہریں پھیل جائیں گی اور کاشتکاری کثرت سے ہوگی ۔ وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ اور جس وقت پہاڑ اڑائے جائیں گے اور ان میں سڑکیں پیادوں اور سواروں کے چلنے کی یا ریل کے چلنے کے لئے بنائی جائیں گی ۔ پھر علاوہ اس کے عام ظلمت کی نشانیاں بیان فرمائیں اور فرمایا ۔ اِذَا الشَّمْسُ كُورت کے جس وقت سورج لپیٹا التكوير : التكوير: ١١ ٣ التكوير : ٨ ٢- التكوير : ٦: هي الانفطار : ٤ ٦ المرسلات 1 ك التكو