شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 502

شہادة القرآن — Page 319

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۱۷ شهادة القرآن میں اور خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں میں ہی دست اندازی کریں اور یہ شوق پیدا ہو کہ کسی طرح اس کی جگہ بھی ہم ہی لے لیں ۔ وہ لوگ جو احادیث مسیح موعود اور احادیث متعلقہ دجال پر حرف زنی کرتے ہیں اُن کو اس مقام میں بھی غور کرنی چاہیے کہ اگر یہ پیشگوئیاں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتیں اور صرف انسان کا کاروبار ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ ایسی صفائی اور عمدگی سے پوری ہوتیں کیا یہ بھی کبھی کسی کے گمان میں تھا کہ یہ قوم نصاری کسی زمانہ میں انسان کے خدا بنانے میں اس قدر کوششیں اور جعلسازیاں کریں گے اور فلسفی تحقیقاتوں میں خدا کے لئے کوئی مرتبہ خصوصیت نہیں چھوڑیں گے۔ دیکھو خر دجال جس کے ما بین اذنین کا ستر باع کا فاصلہ لکھا ہے ریلوں کی گاڑیوں سے بطور اغلب اکثر بالکل مطابق آتا ہے اور جیسا کہ قرآن اور حدیث میں آیا ہے کہ اس زمانہ میں اونٹ کی سواریاں موقوف ہو جائیں گی ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ریل کی سواری نے ان تمام سواریوں کو مات کر دیا اور اب ان کی بہت ہی کم ضرورت باقی رہی ہے اور شائد تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر ضرورت بھی باقی نہ رہے۔ ایسا ہی ہم نے بچشم دیکھا کہ در حقیقت اس قوم کے علماء و حکماء نے دین کے متعلق وہ فتنے ظاہر کئے کہ جن کی نظیر حضرت آدم سے لے کرتا ایں دم پائی نہیں جاتی۔ پس بلاشبہ نبوت میں بھی انہوں نے (۲۲)) مداخلت کی اور خدائی میں بھی۔ اب اس سے زیادہ ان احادیث کی صحت کا کیا ثبوت ہو کہ ان کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور قرآن کریم کی ان آیات میں یعنی إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا میں حقیقت میں اسی دجالی زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس کو ذرہ بھی عقل ہو وہ سمجھ سکتا ہے اور یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ وہ قوم ارضی علوم میں کہاں تک ترقی کرے گی۔ پھر اسی زمانہ کی علامات میں جبکہ ارضی علوم و فنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتُ۔ وَالْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّت جبکہ زمین کھینچی جاوے گی یعنی زمین صاف کی جائے گی اور آبادی بڑھ جاوے گی اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو زمین باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی یعنی تمام ارضی الزلزال: ٢ الانشقاق : ۵،۴