شہادة القرآن — Page 313
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۱۱ شهادة القرآن پھیل گئیں تو جانو کہ وعدہ کا وقت نزدیک ہے۔ پھر دوسرے مقام میں فرمایا ہے ۔ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَى جَعَلَهُ دَكَاءَ وَكَانَ وَعْدُرَى حَقًّا وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنُهُمْ جَمْعاً الجز و نمبر 4 العنی جب وعده خدا تعالیٰ کا نزدیک آ جائے گا تو خدا تعالیٰ اس دیوار کو ریزہ ریزہ کر دے گا جو یا جوج ماجوج کی روک ہے اور خدا تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور ہم اس دن یعنی یا جوج ماجوج کی سلطنت کے زمانہ میں متفرق فرقوں کو مہلت دیں گے کہ تا ایک دوسرے میں موجزنی کریں یعنی ہر یک فرقہ اپنے مذہب اور دین کو دوسرے پر غالب کرنا چاہے گا اور جس طرح ایک موج اس چیز کو اپنے نیچے دبانا چاہتی ہے جس کے اوپر پڑتی ہے اسی طرح موج کی مانند بعض بعض پر پڑیں گی تا ان کو دبا لیں اور کسی کی طرف سے کمی نہیں ہوگی ہر ایک فرقہ اپنے مذہب کو عروج دینے کے لئے کوشش کرے گا اور وہ انہیں لڑائیوں میں ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے * صور (11) پھونکنے سے اس جگہ یہ اشارہ ہے کہ اس وقت عادت اللہ کے موافق خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمانی تائیدوں کے ساتھ کوئی مصلح پیدا ہوگا اور اس کے دل میں زندگی کی کا حاشیہ ان آیات میں کسی کم تجربہ آدمی کو یہ خیال نہ گذرے کہ ان دونوں مقامات کے بعد میں جہنم کا ذکر ہے اور بظاہر سیاق کلام چاہتا ہے کہ یہ قصہ آخرت سے متعلق ہو مگر یا در ہے کہ یہ عام محاورہ قرآن کریم کا ہے اور صد با نظیر یں اس کی اس پاک کلام میں موجود ہیں کہ ایک دنیا کے قصہ کے ساتھ آخرت کا قصہ پیوند کیا جاتا ہے۔ اور ہر ایک حصہ کلام کا اپنے قرائن سے دوسرے حصہ سے تمیز رکھتا ہے۔ اس طرز سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں شق القمر کے معجزہ کو ہی دیکھو کہ وہ ایک نشان تھا لیکن ساتھ اس کے قیامت کا قصہ چھیڑ دیا گیا۔ جس کی وجہ سے بعض نادان قرینوں کو نظر انداز کر کے کہتے ہیں کہ شق القمر وقوع میں نہیں آیا بلکہ قیامت کو ہو گا ۔ منہ ل الكهف : ٩٩ ١٠٠ छापले