سیرة الابدال — Page 149
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۴۷ لیکچر لاہور بالشهر الحالي نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اول میں اُس خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے ایسی پر امن گورنمنٹ کے سایہ میں ہمیں جگہ دی ہے جو ہمیں اپنے مذہبی اشاعت سے نہیں روکتی اور اپنے عدل اور دادگستری سے ہر ایک کانٹا ہماری راہ سے دور کرتی ہے۔ سو ہم خدا کے شکر کے ساتھ اس گورنمنٹ کا بھی شکر کرتے ہیں۔ بعد اس کے اے معزز سامعین اس وقت میں اُن مذہبوں کی نسبت جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور جہاں تک مجھے طاقت ہے میں تہذیب کی رعایت سے بات کروں گا تاہم میں جانتا ہوں کہ طبعاً بعض انسانوں کو اُن سچائیوں کا سننا نا گوار معلوم ہوتا ہے جو اُن کے عقیدہ اور مذہب کے مخالف ہوں ۔ سو یہ امر میرے اختیار سے باہر ہے کہ اس فطرتی نفرت کو دور کر سکوں۔ بہر حال میں سچائی کے بیان میں بھی ہر ایک صاحب سے معافی چاہتا ہوں۔ اے معزز صاحبان! مجھے بہت سے غور کے بعد اور نیز خدا کی متواتر وحی کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اگر چہ اس ملک میں مختلف فرقے بکثرت پائے جاتے ہیں اور مذہبی اختلافات ایک سیلاب کی طرح حرکت کر رہے ہیں تاہم وہ امر جو اس کثرت اختلافات کا موجب ہے وہ در حقیقت ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر انسانوں کے اندر سے قوت روحانیت اور خدا ترسی کی کم ہو گئی ہے۔ اور وہ آسمانی نور جس کے ذریعہ سے انسان حق اور باطل میں یہ لیکچر / ستمبر۱۹۰۴ء کو ہر مذہب وملت و ہر طبقہ کے مجمع کثیر میں بمقام لاہور ایک عظیم الشان جلسہ میں پڑھا گیا ۔ بحوالہ اخبار عام و پنجہ فولا دوغیرہ کے حاضرین جلسہ کی تعداد دس بارہ ہزار سے بھی بڑھ کر تھی ۔ حدود جلسہ سے باہر کی ایستادہ ناظرین مخلوق اس تخمینہ کے علاوہ تھی ۔ ( حاشیہ لیکچر لا ہور طبع دوم )