سیرة الابدال — Page 148
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۴۶ لیکچر لاہور آج پر چه پلیسه اخبار ۲۷ /اگست ۱۹۰۴ ء کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا که حکیم مرزا محمود نام ایرانی لاہور میں فروکش ہیں وہ بھی ایک مسیحیت کے مدعی کے حامی ہیں۔ دعویٰ کرتے ہیں اور مجھ سے مقابلہ کے خواہشمند ہیں۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے اس قدر شدت کم فرصتی ہے کہ میں اُن کی اس درخواست کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ کل ہفتہ کے روز جلسہ کا دن ہے جس میں میری مصروفیت ہوگی اور اتوار کے دن علی الصباح مجھے گورداسپور میں ایک مقدمہ کے لئے جانا جو عدالت میں دائر ہے ضروری ہے۔ میں قریباً بارہ دن سے لاہور میں مقیم ہوں۔ اس مدت میں کسی نے مجھ سے ایسی درخواست نہیں کی اب جبکہ میں جانے کو ہوں اور ایک منٹ بھی مجھے کسی اور کام کے لئے فرصت نہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس بے وقت کی درخواست سے کیا مطلب اور کیا غرض ہے لیکن تاہم میں حکیم مرزا محمود صاحب کو تصفیہ کے لئے ایک اور صاف راہ بتلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کل ۳ رستمبر کو جو جلسہ میں میرا مضمون پڑھا جائے گا وہ مضمون ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار اپنے پرچہ میں بتمام و کمال شائع کردیں۔ حکیم صاحب موصوف سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس مضمون کے مقابلہ میں اُسی اخبار میں اپنا مضمون شائع کرا دیں اور پھر خود پبلک ان دونوں مضمونوں کو پڑھ کر فیصلہ کر لے گی کہ کس شخص کا مضمون راستی پر اور سچائی اور دلائل قویہ پر مبنی ہے۔ اور کس شخص کا مضمون اس مرتبہ سے گرا ہوا ہے۔ میری دانست میں یہ طریق فیصلہ اُن بدنتائج سے بہت محفوظ ہوگا جو آج کل زیادہ مباحثات سے متوقع ہے بلکہ چونکہ اس طرز میں روئے کلام حکیم صاحب کی طرف نہیں اور نہ اُن کی نسبت کوئی تذکرہ ہے اس لئے ایسا مضمون اُن رنجشوں سے بھی برتر ہوگا جو باہم مباحثات سے کبھی کبھی پیش آجایا کرتے ہیں۔ والسلام منہ سے الراقم میرزا غلام احمد قادیانی