سَت بچن — Page 310
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۱۰ ست بیچن وہی قبر ہے جس میں حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے تھے پس اگر یہ وہی قبر ہے تو خود سوچ لیں کہ اسکے مقابل پر وہ عقیدہ کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ چھت کی راہ سے آسمان پر پہنچائے گئے کس قدر لغو اور خلاف واقعہ عقیدہ ٹھہرے گا۔ لیکن یہ واقعہ جوحدیث کی رو سے ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ ضرور حضرت عیسی قبر میں داخل کئے گئے یہ اُس قصہ کو جو مرہم حوار معین کی نسبت ہم لکھ چکے ہیں نہایت قوت دیتا ہے۔ کیونکہ اس سے اس بات کیلئے قرائن قویہ پیدا ہوتے ہیں کہ ضرور حضرت مسیح کو یہودیوں کے ہاتھ سے ایک جسمانی صدمہ پہنچا تھا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے کیونکہ توریت سے ثابت ہے کہ جو مصلوب ہوو لعنتی ہے اور مصلوب وہی ہوتا ہے جو صلیب پر مر جائے وجہ یہ کہ صلیب کی علت غائی قتل کرنا ہے سو ہرگز ممکن نہیں کہ وہ صلیب پر مرے ہوں کیونکہ ایک نبی مقرب اللہ معنی نہیں ہوسکتا اور خود حضرت عیسی نے آپ بھی فرمادیا کہ میں قبر میں ایسا ہی داخل ہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا تھا یہ اُن کی کلام کا ماحصل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبر میں زندہ داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا کیونکہ نبی کی مثال غیر مطابق نہیں ہو سکتی سودہ بلاشبہ قبر میں زندہ ہی داخل کئے گئے اور یہ کر اللہ تھاتا یہود اُن کو مردہ سمجھ لیں اور اس طرح وہ اُن کے ہاتھ سے نجات پادیں۔ یہ واقعہ غار ثور کے واقعہ سے بھی بالکل مشابہ ہے اور وہ غار بھی قبر کی طرح ہے جو اب تک موجود ہے اور غار میں توقف کرنا بھی تین دن ہی لکھا ہے جیسا کہ مسیح کے قبر میں رہنے کی مدت تین دن ہی بیان کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ ثور کی یہ مشابہت جو سیح کی قبر سے ہے اس کا اشارہ بھی حدیثوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے یونس نبی سے مشابہت کا بھی ایک اشارہ کیا ہے۔ پس گویا یہ تین نبی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح علیہ السلام اور یونس علیہ السلام قبر میں زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی اُس میں رہے اور زندہ ہی نکلے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہی بات صحیح ہے جو لوگ مرہم حوار بین کے مضمون پر غور کریں گے وہ بالضرور اس نکتہ تک پہنچ جائیں گے کہ ضرور حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں قبر میں زندہ داخل کئے گئے تھے پلا طوس کی بیوی کی خواب بھی اسی کی مؤید ہے کیونکہ فرشتہ نے اسکی بیوی کو یہی بتلایا تھا کہ میسی اگر صلیب پر مر گیا تو اُس پر اور اُسکے خاوند پر تباہی آئے گی ۔ مگر کوئی تباہی نہیں آئی۔ جس کا یہ نتیجہ ضروری ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔ منہ ا نوٹ ۔ یوسف علیہ السلام کا کنوئیں میں سے زندہ نکلنا بھی اسی سے مشابہ ہے۔ منہ