سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 550

سَت بچن — Page 309

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰۹ حاشیه در حاشیه متعلقه حاشیه صفحه ۱۶۴ ست بچن ہمارے متعصب مولوی ابتک یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام معہ جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور دوسرے نبیوں کی تو فقط روحیں آسمان پر ہیں مگر حضرت عیسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر چڑھائے بھی نہیں گئے بلکہ کوئی اور شخص صلیب پر چڑھایا گیا۔ لیکن ان بیہودہ خیالات کے رد میں علاوہ ان ثبوتوں کے جو ہم ازالہ اوہام اور حمامة البشری وغیرہ کتابوں میں دے چکے ہیں ایک اور قومی ثبوت یہ ہے کہ صحیح بخاری صفحہ ۳۳۹ میں یہ حدیث موجود ہے لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبياءهم مساجد _ * یعنی یہود اور نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا یعنی ان کو سجدہ گاہ مقرر کر دیا اور اُن کی پرستش شروع کی۔ اب ظاہر ہے کہ نصارا ی بنی اسرائیل کے دوسرے نبیوں کی قبروں کی ہرگز پرستش نہیں کرتے بلکہ تمام انبیاء کو گنہگار اور مرتکب صغائر و کبائر خیال کرتے ہیں۔ ہاں بلا د شام میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال اُس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔سواس حدیث سے ثابت ہوا کہ در حقیقت وہ قبر حضرت عیسی علیہ السلام کی ہی قبر ہے جس میں مجروح ہونے کی حالت میں وہ رکھے گئے تھے اور اگر اس قبر کو حضرت عیسی علیہ السلام سے کچھ تعلق نہیں تو پھر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول صادق نہیں ٹھیرے گا اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مصنوعی قبر کو قبر نبی قرار دیں جو محض جعلسازی کے طور پر بنائی گئی ہو ۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی شان سے بعید ہے کہ جھوٹ کو واقعات صحیحہ کے محل پر استعمال کریں پس اگر حدیث میں نصاری کی قبر پرستی کے ذکر میں اس قبر کی طرف اشارہ نہیں تو اب واجب ہے کہ شیخ بطالوی اور دوسرے مخالف مولوی کسی اور ایسے نبی کی قبر کا ہمیں نشان دیں جس کی عیسائی پرستش کرتے ہوں یا کبھی کسی زمانہ میں کی ہے۔ نبوت کا قول باطل نہیں ہو سکتا چاہئے کہ اس کو سرسری طور پر نہ ٹال دیں اور ردی چیز کی طرح نہ پھینک دیں کہ یہ سخت بے ایمانی ہے بلکہ دو باتوں سے ایک بات اختیار کریں (۱) یا تو اس قبر کا ہمیں پتا دیو ہیں جو کسی اور نبی کی کوئی قبر ہے اور اُس کی عیسائی پرستش کرتے ہیں (۲) اور یا اس بات کو قبول کریں کہ بلاد شام میں جو حضرت عیسی کی قبر ہے جس کی نسبت سلطنت انگریزی کی طرف سے پچھلے دنوں میں خریداری کی بھی تجویز ہوئی تھی جس پر ہر سال بہت سا ہجوم عیسائیوں کا ہوتا ہے اور سجدے کئے جاتے ہیں وہ درحقیقت بخاری کتاب الصلوۃ باب الصلوة فى البيعة - مکتبہ دار السلام ریاض ( ناشر )