سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 550

سَت بچن — Page 260

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۰ ست بچن ۱۳۹ خیالات کا اندازہ کر لیا اور قاضی کو اُنہوں نے کہا کہ سچا مسلمان اپنے آپ کو پاک اور بے لوث بناتا ہے اُس میں راستبازی صبر اور صداقت قولی ہوتی ہے جو کچھ قائم ہے اُس میں کسی کو مضرت نہیں پہنچا تا اور جو کچھ مردہ ہے اس کو نہیں کھاتا ( یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتا ) اے نانک ایسا ہی مسلمان سیدھا جنت میں جاتا ہے۔ جب نانک نے یہ فقرے ابیات میں پڑھے تو اُس وقت جتنے ہندو مسلمان بیٹھے ہوئے تھے اُنہوں نے کہا کہ بابا نانک میں خدا بول رہا ہے۔ از نسخہ انڈیا آفس صفحہ ۳۶ سے ۴۱ تک۔ اب جاننا چاہئے کہ باوا نا نک صاحب کی اس تقریر سے دو کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں (۱) اوّل یہ کہ جب قاضی نے ایک ایسی جگہ پر جہاں باوا صاحب موجود نہیں تھے یہ تذکرہ کیا کہ نانک یہ کیا کہتا ہے کہ نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے تو باوا صاحب نے اُس ذکر کو جو غائبانہ ہوا تھا کشفی طور پر معلوم کر لیا اور قاضی کو اپنے ابیات میں یہ جتلا دیا کہ اسلام کی مذمت میرا مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس زمانہ کے اکثر مسلمان رسم اور عادت کے طور پر مسلمان ہیں اسلام کی حقیقت ان میں نہیں پائی جاتی سچا مسلمان راستباز اور پاک طبع ہوتا ہے اور نیز جتلا دیا کہ مردہ کھانا یعنی گلہ کرنا مسلمانوں کا کام نہیں چونکہ قاضی نے غائبانہ باوا صاحب کا گلہ کیا تھا۔ اور قرآن میں ہے کہ گلہ کرنا مردہ کھانے کے برابر ہے اسلئے باوا صاحب نے قاضی کو متنبہ کر دیا کہ تو نے مسلمان کہلا کر میرا گلہ کیوں کیا کیا تجھے خبر نہیں کہ اپنے بھائی کا گلہ کرنا مردہ کھانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مینال یعنی ایک مسلمان کو چاہئے کہ دوسرے مسلمان کا گلہ نہ کرے کیا کوئی مسلمان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاوے (۲) دوسری یہ کرامت تھی کہ اسلام کی ٹھیک حقیقت بتلا دی کیونکہ صبر اور استقامت کے ساتھ تمام راست بازی کی راہوں کو پورا کرنا اور پاک اور بے لوث زندگی اختیار کرنا یہی اسلام کی جڑھ اور اصل حقیقت ہے اور باقی تمام شریعت کے احکام اس اجمال کی تفصیل ہیں چنانچہ ہم عنقریب کسی قدر حقیقت اسلام کی بیان کریں گے۔ ل الحجرات: ١٣