سَت بچن — Page 259
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۵۹ ست بیچن باوا نانک صاحب کی بعض کرامات کا ذکر یہ بات اللہ جل شانہ کی عادت میں داخل ہے کہ جب ایک انسان اپنے دل سے اپنی جان سے اپنے تمام وجود سے اُس کی طرف جھک جاتا ہے اور اپنی زندگی کا اصل مقصد اُسی کو ٹھہراتا ہے اور غیر سے قطع تعلق کرتا اور اُس کی محبت سے بھر جاتا ہے تو پھر وہ قادر وکریم ورحیم خدا ایک خاص طور سے اُس سے تعلق پکڑتا ہے اور ایک ایسے نئے رنگ میں اُس پر تجلی فرماتا ہے جس سے دنیا غافل ہوتی ہے سو جو کچھ اُس کے کامل اخلاص اور کامل صدق اور کامل وفا کی پاداش میں عنایت الہی وقتا فوقتا اس کی عزت ظاہر کرتی ہے مثلاً مشکلات کے وقت میں اُس کی دستگیری فرماتی ہے اور نا قدر شناسوں پر اُس کا قدر و منزلت کھول دیتی ہے اور اُس کے دوستوں پر فضل اور احسان کا پر توہ ڈالتی ہے اور اُس کے موذی دشمنوں کو قہر کے ساتھ پکڑتی ہے اور اُس کو معارف اور دقائق سے حصہ بخشتی ہے اور اُس کی قبولیت کو دنیا میں پھیلا دیتی ہے اور اُس کے ہر یک قول اور فعل میں برکت رکھ دیتی ہے اور اُس کے ہر یک بوجھ کی آپ متکفل ہو جاتی ہے اور عجیب طور پر اُس کی تمام حاجتوں کو پورا کر دیتی ہے تو ان تمام صورتوں کا نام کرامت ہے اور جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو خدا اُس کا ہو جاتا ہے اور جب خدا اُس کا ہو جاتا ہے تو بہتوں کو جو اُس کے نیک بندے ہیں اُس کی طرف رجوع دیتا ہے اور یہ تمام عنایات ربانیہ اس بندہ کی کرامات میں داخل ہوتی ہیں سوچونکہ باوانا نک صاحب در حقیقت خدا تعالیٰ کے مخلص بندوں میں سے تھے اور اپنی زندگی میں ایک کھلی کھلی تبدیلی کر کے اللہ جل شانہ کی طرف جھک گئے تھے اسلئے عنایات ربانیہ نے وہ کرامات بھی اُن میں ظاہر کیں جو خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں ظاہر ہوا کرتی ہیں۔ چنانچہ نسخہ انڈیا آفس میں لکھا ہے کہ جب قاضی نے باوانا تک صاحب پر بدظنی کی کہ یہ کیوں ایسا کہتا ہے کہ نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے تو باوانا نک صاحب نے اپنی فوق الفطرت قوت سے قاضی کے ۱۳۵