سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 550

سَت بچن — Page 227

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۷ ست بچن اب آپ لوگ ذرا غور کر کے دیکھیں کہ یہ مضمون باوا صاحب نے قرآن شریف کی اس آیت (۱۰۳) سے لیا ہے قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا یعنی کہ کہ اگر خدا کے کلموں کیلئے سمندر کو سیاہی بنایا جاوے تو سمندرختم ہو جائے گا قبل اس کے جو خدا کے کلمے ختم ہوں اگر چہ کئی ایک سمند ر اسی کام میں اور بھی خرچ ہو جاویں پھر با وا صاحب اسی شہد کے آخر میں کہتے ہیں۔ قیمت کنے نہ پائیا سب سُن سُن آکھے سو یعنی خدا کی اصل حقیقت کا اندازہ کسی کو معلوم نہیں صرف سماعی باتوں پر مدار ر ہا مطلب یہ کہ ایمان کے طور پر خدا کو مانا گیا مگر اصل گنہ اُس کی کسی کو معلوم نہ ہوئی یہ شعر در حقیقت اس آیت کا ترجمہ ہے لا تُدرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ یعنی خدا کو آنکھیں نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالی کی کنہ کوئی عقل دریافت نہیں کر سکتی پھر با وا صاحب ایک شہد میں گرنتھ میں فرماتے ہیں پیر پیغمبر سالک صادق شہدے اور شہید شیخ مشائخ قاضی ملاور درویش رسید برکت تین کو اگلی پڑھدے رہن درود یعنی جس قدر پیر پیغمبر اور سالک اور شہید گذرے اور شیخ مشائخ اور قاضی ملا اور نیک درویش ہوئے ہیں اُن میں سے انہیں کو برکت ملے گی جو جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں یا اشارہ اس آیت کی طرف ہے إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسْلِيمًا ۖ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ یعنی اللہ اور تمام فرشتے اُس کے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اے وے لوگو جو ایمان دار ہو تم بھی اُس پر درود اور سلام بھیجو۔ اے نبی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے پیار کرے اور تمہارے گناہ بخش دیوے اب ناظرین غور سے دیکھیں ل الكهف : ۱۱۰ ک الانعام: ۱۰۴ ۳ الاحزاب : ۵۷ ۴ آل عمران: ۳۲۔