سَت بچن — Page 226
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۶ ست بچن (۱۰۲) وہ تمہارے کھوٹے اعمال ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ اور جنہوں نے کھوٹے کام کئے انہیں کاموں نے اُن کے دل پر زنگار چڑھا دیا۔ سو وہ خدا کو ہر گز نہیں دیکھیں گے۔ اب غور اور انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ باوا صاحب صریح صریح قرآنی آیات سے اقتباس کر رہے ہیں اور قرآنی عقیدہ کو بیان فرما رہے ہیں اگر اُن کا قرآن کی طرف رجوع نہیں تھا تو کیوں انہوں نے قرآنی تعلیم کو اپنا عقیدہ ٹھہرایا۔ دین میں داخل ہونا اور کس کو کہتے ہیں اسی کو تو کہتے ہیں کہ کسی دین کی تعلیموں کو سچ سمجھ کر انہیں کے موافق اپنا اعتقاد ظاہر کرنا۔ پھر باوانا تک صاحب فرماتے ہیں جیتا دیہیں کیتا ہو کھاؤ بیا در ناہیں کے درجاؤ نانک ایک کہے ارداس جیو پنڈ سب تیرے پاس یعنی جس قدر تو دیوے اُسی قدر ہم کھاتے ہیں دوسرا دروازہ نہیں جس پر جاویں نا نک ایک ہی عرض کرتا ہے کہ روح اور جسم سب تیرے پاس ہیں یہ مضمون نانک صاحب نے ان آیات قرآنی سے لیا ہے نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ یعنی ہم نے تمہارے کھانے پینے اور دوسری حاجات کی چیز میں تم میں تقسیم کر دی ہیں کسی کو تھوڑی اور کسی کو بہت دی ہیں اور بعض کا بعض سے مرتبہ زیادہ کر دیا ہے اور خدا تعالی کے ملک سے جو زمین و آسمان ہے تم باہر نہیں جا سکتے ۔ جہاں جاؤ گے خدا کا غلبہ تمہارے ساتھ ہوگا اب دیکھو با وا صاحب نے صریح ان آیتوں سے اپنا مضمون بنایا ہے اور یہ مضمون اواگون کے عقیدے سے بالکل مخالف ہے کیونکہ اواگون والا یہ نہیں کہے گا کہ رزق کی کمی بیشی خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ہے بلکہ وہ تو اپنی تمام عزت اور ذلت کو اپنے پہلے عملوں کی طرف منسوب کرے گا۔ اور روحوں کا خالق خدا تعالی کو بھی نہ مانے گا پھر باوانا تک صاحب فرماتے ہیں تیرا حکم نہ جانے کیتر الکھ نہ جانے کو جے سوشا عر میلئے تیل نہ پجاوے ہو یعنی تیرے حکم کی تعداد کسی کو معلوم نہیں اگر سو شاعر جمع کریں تو ایک تل بھر بھی پورا نہ کرسکیں ل الزخرف : ٣٣ الرحمن : ۳۴