سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 550

سَت بچن — Page 211

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۱ ست بچن ہیں اور ہرگز اُن کا یہ مذہب نہیں چنانچہ ہمارے اس دعوے پر اُن کے دوسرے شعر گواہ ہیں اور ۸۷ یہ شعر بھی تو گرنتھ صاحب میں اب تک موجود ہے سکھ داتا گر سینو میں سب اوگن گڑھے دھو یعنی آرام کے دینے والے خدا کو پوجنا چاہئے جو تمام بداعمالیوں کو نکال کر دھوڈالتا ہے۔ پھر یہ شعر بھی گرنتھ صاحب میں ہے۔ جن کیتا تے جانے من مگھ پس نا پاک گن گوبند نت گاو میں اوگن کٹن ہار یعنی اگر اپنے پیدا کرنے والے کو نہ جانیں تو منہ دل دونوں پلید ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کی صفت ثنا کریں تو وہ تمام ناپاکیاں ہماریاں دور کر دیگا۔ دیکھو ان شعروں میں صاف اقرار ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب سے انسان پاک ہو جاتا ہے پھر یہ مقولہ کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے سب نا پاک اور گندے ہیں ہر یک بات کے لفظ پکڑ لینے اور حقیقت سے غافل رہنا یہ بڑی غلطی ہے مثلاً یہ شعر گرنتھ صاحب میں موجود ہے۔ کہونا تک ہم پہنچ کر ما سرن پرے کی راکھہو سرما یعنی اے نانک اس بات کا اقرار کر دے کہ میں بد عمل آدمی ہوں قدموں پر گرے ہوئے کا لحاظ رکھ لو۔ یعنی اگر چہ میں نہایت ہی بدعمل ہوں مگر اے خالق تیرے قدموں پر آ گرا ہوں سو اس لحاظ سے کہ میں قدموں پر آ گرا ہوں مجھے بخش دے۔ اب نہایت بے ادبی ہوگی اگر کوئی صرف لفظوں کا لحاظ کر کے یہ کہے کہ نعوذ باللہ باوا نا نک صاحب کا چال چلن اچھا نہیں تھا کیونکہ وہ آپ اقرار کرتے ہیں کہ میں پہنچ کرم آدمی ہوں تو یہ سخت جہالت اور تعصب ہے کیونکہ یہ مقولہ اُن کا مقام انکسار میں اللہ جل شانہ کے سامنے ہے ایسا ہی یہ مقولہ اُن کا کہ بجز خدا کے تمام مخلوق گندی ہے مقام انکسار میں ہوگا اور اُس کے یہ معنی ہوں گے کہ حقیقی پا کی صرف خدا کیلئے مسلم ہے اور باقی سب لوگ اُس کے پاک کرنے سے پاک ہوتے ہیں اور ان معنوں سے یہ مضمون قرآن کریم کی تعلیم سے موافق پڑے گا کیونکہ اللہ جل شانہ بہشتیوں کی زبان سے فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللهُ لے یعنی سب تعریف اس خدا کو جس نے ل الاعراف: ۴۴