سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 550

سَت بچن — Page 202

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۰۲ ست بچن زاری کرمنے مانہہ سائیں بے پرواہ جو کچھ چاہے سو کرے تس کا کیا ویساہ دل کے اندر روتا رہ کیونکہ خدا لا پرواہ ہے جو کچھ چاہتاہے وہ کرتا ہےاس کی بے نیازی کا کیا اعتبار ہے س سودھ مئن آپنا سب کچھ اس ہی مانہہ تن بھانڈا من وست کر علمی بند ساہیں اپنے دل کو درست کر کہ سب کچھ اسی میں ہے جسم کو برتن بنا اور دل کو ایک چیز کی طرح اس میں رکھ کیونکہ جسم اور دل حکم کے ساتھ بندھے ہیں ش شہادت پائیے پیا سوں بو لائے رُکن ایسے تن جائیسی کیجے طلب خدائے جو شخص اللہ سے دل لگاتا ہے وہ شہادت پاتا ہے اے رکن دین یتن تو نا ہو جائیگا خدا کی طلب کرنی چاہئے ص صلواۃ گذشت کو آکھو مگھ تے نت خاصے بندے رب دے سر متر دے مت نبی گذرے ہوئے پر روز درود پڑھو وہ خدا تعالیٰ کے خاص بندے تھے اور اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والوں کے سردار تھے ض ضلالت گمرہی عادت سوں میل اُٹھیں بندے نظر کر چھینے ناہیں کھیل گمراہی اور ضلالت کو دل سے دُور کر دے اے بندے غور کر کے اُٹھ یوں بازی میں مت لگارہ طلب کر راستی دے سُن رسال جنہاں ڈٹھیاں دُکھ جائے تن توٹے ما یا جال سچائی کو ڈھونڈ جو تجھے راہداری کا روانہ دیں گے جس کو دیکھ کر بدن کا دُکھ دور ہو اور خواہشوں کا جال ٹوٹ جائے ظ ظالم سوئی بھلے چین ناہیں نام سائیں تیرے نام بن کیوں آوے آرام جو لوگ ظالم ہیں وہی بھولے ہوئے ہیں جو خدا اے خدا تیرے نام کے بغیر کیونکر آرام آجاوے کی پرستش نہیں کرتے ਜ਼ੇ ਜ਼ਾਰੀ ਕਰ ਮਨੇ ਮਹਿ ਸਾਈਂ ਬੇਪਰਵਾਹ ਸੀਨ ਸੋਧ ਮਨ ਆਪਣਾ ਸਭਕਿਛੁ ਇਸਹੀ ਮਾਹਿ ਸ਼ੀਨ ਸ਼ਹਾਦਤ ਪਾਈ ਅਹਿ ਪੀਆਸੋਂ ਲਿਵਲਾਇ ਸੁਆਦ ਸਲਵਾਤ ਗੁਜ਼ਸ਼ਤ ਕਉ ਆਖਹੁ ਮੁਖ ਤੇ ਨਿੱਤ ਜੁਆਦ ਜ਼ਲਾਲਤ ਗੁਮਰਹੀ ਆਦਤ ਸੋਂ ਮੇਲ ਤੋਇ ਤਲਬ ਕਰ ਰਾਸਤੀ ਦੇਇਸਣ ਰਸਾਲ ਜ਼ੋਇ ਜ਼ਾਲਮ ਸੋਈ ਭੁਲੇ ਚੇਤਨ ਨਾਹੀਂ ਨਾਮ ਕੁਛ ਚਾਹੇ ਸੋ ਕਰਹਿ ਤਿਸਕਾ ਕਿਆ ਵੇਸਾਹ ||11|| 111211 ਖ਼ੁਦਾਇ ||13|| ਜੋ ਤਨ ਭਾਂਡਾ ਮਨ ਵਸਤ ਕਰ ਹੁਕਮੀ ਬੰਧ ਸਮਾਹਿ ਰੁਕਨ ਇਹੈ ਤਨ ਜਾਇਸੀ ਕੀਚੇ ਤਲਬ ਖ਼ਾਸੇ ਬੰਦੇ ਰੱਬ ਦੇ ਸਿਰ ਮਿੱਤ੍ਰ ਦੇ ਮਿੱਤ ਕਰ ਚੀਨਹਿ ਨਾਹੀਂ ਖੇਲ ਉਠੀ ਬੰਦੇ ਨਜ਼ਰ ਜਿਨ੍ਹਾਂ ਡਿੱਠਿਆਂ ਦੁਖ ਜਾਇ ਤਨ ਤੂਟੇ ਸਾਈਂ ਤੇਰੇ ਨਾਮ ਬਿਨੁ ਕਿਉਂ ਆਵੈ ||14|| ||15|| ਮਾਯਾ ਜਾਲ ||16|| ਆਰਾਮ ||17||