سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 550

سَت بچن — Page 195

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۹۵ ست بچن کو کمال تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی والہام سے مشرف کر کے بھیجے گئے اے تو جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے ایسے شخص کی باوا صاحب کی طرف سے نظیر پیش ہونی چاہئے جس کی کتاب کی پیروی سے چورانوے کروڑ انسان نے مخلوق پرستی اور بت پرستی سے نجات پا کر اس اقرار کو اپنے دل اور جان میں بٹھایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں پو جوں گا اور پھر ایسے موحد اور نبی اللہ کو با وا صاحب نے مان لیا ہو کیونکہ اگر با وا صاحب نے کسی ایسے کامل کے کمال کی تصدیق نہیں کی جو آپ بھی کامل تھا اور کروڑہا انسانوں کو اُس نے توحید اور کمال توحید تک پہنچایا تو پھر باوا صاحب پر وہی پہلا اعتراض ہوگا کہ نعوذ باللہ خدا نے با وا صاحب کو وہ آنکھیں نہیں دی تھیں جن آنکھوں سے وہ اُن کا ملوں کو شناخت کر سکتے جو ہا وا صاحب کے وجود سے پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے آتے رہے کیونکہ یہ بات تو صریح باطل ہے اور کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی کہ باوا صاحب سے پہلی دنیا ابتداء سے تاریکی میں تھی اور کوئی کامل خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا نہیں آیا تھا کہ جو نہ صرف آپ موحد ہو بلکہ کئی کروڑ انسانوں کو اُس نے توحید پر قائم کیا ہو صرف باوا صاحب ہی دنیا میں ایسے آئے جو مو خد اور حلال خور اور لالچوں سے پاک تھے جنہوں نے سکھوں کو کامل توحید پر قائم کیا اور اللہ اور بندوں کے حقوق کی نسبت پورا پورا بیان کر دیا اور حلال حرام کے مسائل سارے سمجھا دیئے اور پھر بہداہت ایسا خیال کرنا جبکہ باطل اور ہادئے قدیم کی عادت کے برخلاف ہے تو بیشک با واصاحب نے کسی ایسے کامل کا اپنے اشعار میں ذکر کیا ہوگا جو خدا سے کمال پا کر دنیا میں آیا اور کروڑہا انسانوں کو توحید اور خدا پرستی پر قائم کیا ۔ پس جب ہم ایسے شخص کا نشان با وا صاحب کے شہدوں میں ڈھونڈھتے ہیں تو جا بجا سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلعم کا ذکر باوا صاحب کے شعروں میں پاتے ہیں اور ضرور تھا کہ باوا صاحب ہندو مذہب کے ترک کرنے کے بعد اسلام میں داخل ہوتے کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو خدا کے قدیم سلسلہ سے الگ رہنے کی وجہ سے بے دین کہلانے ۔ ہاں یہ بات بالکل سچ ہے کہ باوا صاحب وید سے اور وید پرستوں سے بالکل الگ ہو گئے تھے تبھی تو انہوں نے کہا کہ بر ہما بھی روحانی حیات سے محروم گیا یہی سبب تھا کہ باوا صاحب سے اس قدر ہند و متنفر ہو گئے تھے اور اس قدر اُن کو پاک حالت سے دور اور کراہت کرنے کے لائق سمجھتے تھے کہ جہاں وہ کسی دوکان وغیرہ پر