سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 550

سَت بچن — Page 194

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۹۴ ست بچن تناقض ہو سو جس طرف کثرت دلائل ہے اُس کو قبول کرو اور جو کم ہے اُس کو ر ڈ کرو اور دفع کروتا تمہاری کتابوں میں تناقض نہ رہے اب کیا اس بدیہی بات سے کوئی آنکھ بند کر لیگا۔ اس طرف تو دلائل قاطعہ کا ایک ڈھیر ہے مگر سکھ صاحبوں کے ہاتھ مخالفانہ بحث کے وقت خالی ہیں۔ اور آپ کا یہ خیال که نانک صاحب اُن تمام الہامی کتابوں کو جھوٹی خیال کرتے تھے جو اُن کے وجود سے پہلے دنیا میں پائی جاتی تھیں یہ کیسا بیہودہ خیال ہے کیا نا تک صاحب کی پیدائش سے پہلے دنیا ابتدا سے جھوٹھ میں گرفتار تھی اور ہمیشہ یہ زمین راست بازوں سے خالی رہی ہے جب نانک صاحب پیدا ہوئے تو دنیا نے ایک بھگت کا منہ دیکھا جو سچا اور حلال کھانے والا اور لالچ سے پاک تھا کیا ایسا تعصب آپ کا کسی کو پسند آئیگا یا کوئی عقل اور کانشنس اس کو قبول کر لیگی اور کیا کوئی پاک طبع اور منصف مزاج اس بات کو مان لیگا کہ نانک صاحب کے وجود سے پہلے یہ دنیا بے شمار زمانوں سے گمراہ ہی چلی آتی تھی اور جب سے کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا جس قدر لوگوں نے باخدا اور ملہم ہونے کے دعوے کئے ہیں وہ سب جھوٹے تھے اور دنیا کے لالچوں میں گرفتار اور حرام خور تھے کوئی بھی اُن میں ایسا نہیں تھا جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سچا الہام ملا ہو اور اُس محبوب از لی سے سچا پیوند ہوا ہو سب کے سب دنیا پرست تھے جو دنیا کی خواہشوں میں پھنس کر خدا کے نام کو بھول گئے تھے اور دنیا کے لالچ میں لگ گئے تھے اور سب ایسے ہی تھے جنہوں نے خدا کا نام بھلایا اور لوگوں سے اپنا نام کہلایا اور وہ سب ایسے ہی نبی اور رسول اور اوتار اور رشی تھے جو حرام کو حلال سمجھ کر کھاتے رہے اور کچھ خدا کا خوف نہ کیا۔ مگر نانک صاحب نے حلال کھایا اور خدا کے بیشمار بندوں میں سے جو دنیا کی ابتداء سے ہوتے آئے ہیں صرف ایک نانک صاحب ہی ہیں جو دنیا کے لالچوں سے پاک تھے اور حرام نہیں کھاتے تھے جن کو خدا تعالیٰ کی سچی معرفت حاصل ہوئی اور سچا گیان ملا اور سچا الہام ملا۔ اب بتلاؤ کہ کیا ایسا خلاف واقعہ خیال کسی عارف اور نیک بخت کا ہوسکتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ مجھ سے پہلے سب نا پاک اور مفتری اور جھوٹے اور لالچی پیدا ہوتے رہے ایک سچا اور حلال کھانے والا میں ہی دنیا میں آیا اور اگر کہو کہ باوانا تک صاحب بجو حضرت نبینا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بہت سے کامل بندوں کو مانتے تھے کہ جو نہ صرف کامل تھے بلکہ دوسروں