سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 550

سَت بچن — Page 185

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸۵ ست بچن روضہ کی دیوار جنوبی میں ایک مکان محراب دار دروازہ کی شکل پر بنا ہوا ہے اُس پر یا اللہ کا لفظ لکھا ہوا (۶۱) ہے اور ساتھ اُس کے ایک پنجہ بنا ہوا ہے اس شکل پر یا اللہ ۔ اس جگہ کے ہندو مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یہ لفظ یا اللہ کا باوا صاحب نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اور پنجہ کی شکل بھی اپنے ہاتھ سے بنائی تھی۔ دیوار کے ساتھ پائین دیوار میں ایک مکان کا یہ نشان بنا ہوا ہے یہ جگہ ڈیڈھ گز قریب طول میں اور ایک گز عرض میں ہے اور یہ بات ملتان کے ہند و مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہے کہ اس جگہ باوا نا تک صاحب چالیس روز چلہ میں بیٹھے تھے۔ چنانچہ ہندو لوگ اس جگہ کو متبرک سمجھ کر زیارت کرنے کو آتے ہیں اور ایسا ہی سکھ بھی زیارت کے لئے ہمیشہ آتے رہتے ہیں۔ اس روضہ کے اندرونی احاطہ میں ایک مسجد بھی واقع ہے جو نقشہ میں دکھائی گئی ہے اور وہ باوانا نک صاحب کے چلہ سے بہت قریب ہے صرف پانچ چھ کرم کا فرق ہے اور باوا صاحب کا یہ مکان چلہ رو بقبلہ ہے ہے جس میں قبلہ کی طرف مونہ کرنا چلہ کش کا اصل مقصود پایا جاتا ہے اور روضہ کے گردا گرد ایک مکان مسقف بنا ہوا ہے جس کو یہاں کے لوگ غلام گردش کہتے ہیں جس کا نمونہ نقشہ میں علیحدہ دکھلایا گیا ہے نانک صاحب کی جائے نشست غلام گردش کے اندر ہے جو جگہ مسقف ہے اور کسیس شاہ صاحب رئیس ملتان سجادہ نشین شمس تبریز سبز واری کی زبانی معلوم ہوا کہ جب با دانا نک صاحب بیت اللہ شریف سے واپس تشریف لائے تو حج خانہ کعبہ سے فراغت کرتے ہی ملتان میں آئے۔ * * اور روضہ مبارکہ شاہ شمس تبریز صاحب پر چالیس روز حمل نوٹ ۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کا وہ مکان چلہ جو سرسہ میں بنا ہوا ہے وہ بھی رو بقبلہ ہے اور اب ہمارے اس دوست کی تحریر سے معلوم ہوا ہے کہ یہ چلہ بھی رو بقبلہ باوا صاحب نے بنایا تا نماز پڑھنے کے لئے آسانی ہو اور مسجد کے قریب بنایا تا فرضی نمازیں جماعت کے ساتھ مسجد میں سہولیت سے ادا کریں اب ان روشن ثبوتوں کے مقابل پر باوا صاحب کے اسلام سے انکار کرنا گویا دن کو رات کہنا ہے ۔م۔ غ۔ا ے نوٹ ۔ اللہ اللہ یہ شخص کیسا دین اسلام کی محبت میں فنا ہو گیا تھا اور خدا جوئی اور محبت الہی کی آگ کیسی اور کس قدر اُس کے دل میں جوش زن تھی اور کس زور و شور سے اس کے اندر آگ بھڑک رہی تھی اور وہ کیا شے تھی جو اُس کو ایسا بے آرام کر رہی تھی جو مکہ معظمہ میں مدت دراز تک رہ کر پھر نہ چاہا کہ گھر میں جا کر آرام کرے اور بچوں کی محبت میں مشغول ہو بلکہ سیدھا ملتان میں پہنچا اور شمس تبریز کے روضہ کے قرب وجوار میں ریاضت اور مجاہدہ شروع کیا۔ چاہئے کہ ہر ایک ستی کا مارا دنیا میں غرق نام کا مسلمان بلکہ مولوی اس مرد خدا کی سرگرمی کی طرف خیال کر کے عبرت پکڑے اور مرنے سے پہلے متنبہ ہو جائے کہ پھر یہ موقعہ دوسری مرتبہ ہرگز نہیں ملے گا کہ دنیا میں آوے اور خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے لئے دل و جان سے مجاہدات کرے۔ یارو یہی چند روز ہیں جس نے سمجھنا ہو سمجھ لیوے اے سونے والو جا گو اور اگر رات ہے تو دن کا انتظار مت کرو اور اگر دن ہے تو رات کے منتظرمت رہو کہ پیچھے سے بے فائدہ رونا ہوگا اور دل کو جلا دینے والی حسرتیں کبھی منقطع نہیں ہوں گی ۔ م منه