سَت بچن — Page 184
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸۴ ست بچن ہوتی ہے جس میں خدا تعالیٰ کے پیارے بندے سوئے ہوئے ہیں سو اسی غرض سے اُنہوں نے اُن کی خانقاہ کے پاس عبادت کے لئے اپنا خلوت خانہ بنایا۔ ہم نے جو اپنے ایک مخلص ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب کو موقعہ پر تحقیقات کرنے کی غرض سے بھیجا تو انہوں نے کامل تحقیقات کر کے کاغذات متعلقہ تحقیقات جو نہایت تشفی بخش تھے ہماری طرف روانہ کئے چنانچہ اُن میں سے ایک موقعہ چلہ کا نقشہ ہے جو اس رسالہ کے ساتھ شامل کیا گیا جس کو منشی بختاور سنگھ صاحب سب اور سیر نے بہت تحقیق کے ساتھ طیار کیا کا غذات آمدہ سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ بادا نانک صاحب نے بعض اور مشاہیر بزرگان اسلام کی خانقاہوں پر بھی چلہ کیا ہے چنانچہ ایک چلہ حضرت معین الدین صاحب چشتی کی خانقاہ پر بمقام اجمیر کیا اور ایک چلہ بمقام پاک پتن اور ایک چلہ بمقام ملتان لیکن چونکہ وقت تنگ تھا اس لئے ہم نے صرف چلہ سرسہ اور چلہ ملتان پر کفایت کی سوسرسہ کے چلہ کی کیفیت تو ہم بیان کر چکے اور نقشہ بھی اس رسالہ کے ساتھ آویزاں ہے۔ مگر ملتان کے چلہ کی کیفیت بتفصیل ذیل ہے۔ ملتان کے چلہ کی کیفیت میں نے اپنے ایک معزز دوست کو جو ایسے امور کی تحقیقات کیلئے ایک طبعی جوش رکھتے تھے اس بات کیلئے تکلیف دی کہ وہ ملتان میں جا کر بر سر موقعہ یہ تحقیقات کریں کہ در حقیقت بادا نانک صاحب نے ملتان میں کوئی چلہ کیا ہے یا نہیں چنانچہ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو اُن کا خط معہ نقشہ موقعہ کے بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا جسکی اصل عبارت ذیل میں لکھی جاتی ہے۔ بحضرت جناب مسیح موعود مهدی زمان مرزا صاحب دام برکاته بعد سلام نیاز کے گذارش ہے کہ سرفراز نامہ حضور کا شرف صدور لا کر باعث سعادت دارین ہوا کمترین برائے تعمیل ارشاد ۲۷ ستمبر ۱۸۹۵ء کو ملتان میں پہنچا عند التحقیقات معلوم ہوا کہ باوانا نک صاحب نے روضہ مبارکہ حضرت شاہ شمس تبریز پر چالیس روز تک چلہ کیا تھا نقشہ روضہ شامل عریضہ لھذا ارسال ہے نقشہ میں دکھایا گیا ہے کہ روضہ کے جانب جنوب میں وہ مکان ہے جو چلہ نانک کہلاتا ہے