سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 550

سَت بچن — Page 144

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۴۴ دلیل اول ۔ باوانا نک صاحب کا وصیت نامہ جو سکھوں میں چولا صاحب کر کے مشہور ہے ست بچن یہ وصیت نامہ جس کو سکھ لوگ چولا صاحب کے نام سے موسوم کرتے ہیں بمقام ڈیرہ نانک جو ضلع گورداسپور پنجاب میں واقع ہے اُس مکان گوردوارہ میں نہایت اعزاز اور اکرام سے رکھا ہوا ہے جس کو کابلی مل کی اولاد نے جو باوا صاحب کی نسل میں سے تھا خاص اس تبرک کے لئے بنوایا ہے اور پہلا مکان جو چولا صاحب کے لئے بنوایا گیا تھا کہتے ہیں کہ اس پر کئی ہزار روپیہ سے کچھ زیادہ خرچ آیا تھا۔ غرض یہ چولا صاحب اس قدر عزت سے رکھا گیا ہے کہ دنیا میں بڑھ کر اس سے متصور نہیں اور یہ ایک سوتی کپڑا ہے جو کچھ خاکی رنگ اور بعض بعض کناروں پر کچھ سرخی نما بھی ہے۔ سکھوں کی جنم ساکھی کا یہ بیان ہے کہ اُس میں تیس سیپاره قرآن شریف کے لکھے ہوئے ہیں۔ اور نیز وہ تمام اسماء الہی بھی اس میں مکتوب ہیں جو قرآن کریم میں ہیں۔ اور سکھوں میں یہ امر ایک متفق علیہ واقعہ کی طرح مانا گیا ہے کہ یہ چولا صاحب جس پر قرآن شریف لکھا ہوا ہے آسمان سے باوا صاحب کے لئے اُتر ا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا اور قدرت کے ہاتھ سے سیا گیا اور قدرت کے ہاتھ سے باوا صاحب کو پہنایا گیا۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف بھی تھا کہ اس چولا پر آسمانی کلام لکھا ہوا ہے جس سے ہاوا صاحب نے ہدایت پائی۔ اور ہم نے ان بیانات پر پورا بھروسہ نہ کر کے خود اپنے خاص دوستوں کو اس کی پوری پوری تحقیقات کے لئے موقعہ پر بھیجا اور اُن کو تاکید سے کہا کہ کسی کے کہنے پر ہر گز اعتبار نہ کریں اور خود توجہ سے اپنی آنکھ سے اُس کپڑے کو دیکھیں کہ اُس پر کیا لکھا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ قادیان سے روانہ ہو کر ڈیرہ ٹانک میں پہنچے اور اُس موقعہ پر گئے جہاں چولا کی زیارت کے لئے ایک مندر بنایا گیا ہے اور کابلی مل کی اولاد کو ملے اور وہ لوگ خاطرداری اور تواضع سے پیش آئے جہ نوٹ ۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سرخی اُس زمانہ میں ڈالی گئی ہے کہ جب کچھ تعصب پیدا ہو گیا تھا غرض یہ تھی کہ وہ حروف مٹ جائیں مگر وہ حروف بھی ابتک پڑھنے کے لائق ہیں۔ منہ دیکھوا گلاصفحہ۔ (ناشر) erro