سَت بچن — Page 129
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۹ ست بچن چاروں و ید کہانی۔ سادھ کی مہما وید نجانی نانک بر هم گیانی آپ پر میشر کیا وید پڑھنے والے کی مر گئے اور نانک جی آدمی اپنے کو امر سمجھتے تھے کیا وے نہیں مرگئے وید تو سب وڈھیاؤں کا بھنڈار ہے پر تو جو چاروں ویدوں کو کہانی کہے اُس کی سب باتیں کہانی ہیں۔ جو مورکھوں کا نام سنت ہوتا ہے وے بیچارے ویدوں کی مہما کبھی نہیں جان سکتے جو نانک جی ویدوں ہی کا مان کرتے تو ان کا سمپر دائے نہ چلتا نہ وے گرو بن سکتے تھے کیونکہ سنسکرت وڈھیا تو پڑھے ہی نہیں تھے تو دوسرے کو پڑھا کرششیہ کیسے بنا سکتے تھے۔ باقی ترجمہ یہ ہے کہ نانک جی اپنے سکھوں کے رو برو وید کے مخالف باتیں کیا کرتے تھے یعنی ایسی تعلیم دیتے تھے جو دید کی تعلیم کے برعکس ہوتی اور کبھی کوئی موافق بات بھی کہتے مگر دل سے نہیں بلکہ اس خوف سے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ خدا کا قائل نہیں یعنی نانک ایک منافق آدمی تھا وہ در حقیقت ویدوں کی تعلیم سے دل سے بیزار تھا کبھی ویدوں کے موافق کوئی بات اس لئے کہتا تھا کہ تا ہندوؤں کو دھوکہ دیوے اور وہ لوگ سمجھیں کہ یہ شخص ہندو مذہب سے بلکلی دست بردار نہیں سو یہ کاروائی لوگوں کے ڈر سے تھی نہ سچے دل سے اور پھر دیا نندا اپنی اس رائے کی تائید کے لئے کہ نانک در حقیقت ہندو مذہب اور ویدوں سے الگ ہو گیا تھا با وانا انک صاحب کا مندرجہ ذیل شعر اسی غرض سے پیش کرتا ہے اور وہ شعر یہ ہے۔ وید پڑھت برہما مرے چاروں وید کہانی سادھ کی مہما وید نجانی۔ نانک برہم گیانی آپ پر میشر یعنی وید پڑھتے پڑھتے برہما مر گیا اور حیات جاودانی حاصل نہ ہوئی چاروں وید کہانی یعنی یاوہ گوئی ہے اور خدا تعالیٰ کی وہ تعریف جو راستباز کیا کرتے ہیں ویدوں کو معلوم نہیں یعنی وہ حمد و ثناء اللہ جل شانہ کی جو صادق کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ سچی تعریف اُس کی اور سچی شناخت اُس کی جو عارفوں کو حاصل ہوتی ہے چاروں وید اُس سے محروم اور بے نصیب ہیں کیونکہ اے نانک یہ پرمیشر کا خاصہ ہے جو صحیح اور پاک علم سے خاص ہے یعنی ویدوں نے جو صراط مستقیم کو چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہیں بتلائیں اس میں وید معذور ہیں کیونکہ وہ اُس ایشر برہم گیانی کی طرف سے نہیں ہیں سہو کتابت ہے۔ ہندی متن میں 'سنت' لکھا ہے۔ ( ناشر )