سَت بچن — Page 128
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۸ ست بیچن اُن کا دعوی کر دیا مگر یہ سب شرارت ہے باوا صاحب ایک خاکسار آدمی تھے پنڈت بننے کا اُن کو شوق نہیں تھا یہ ریا کاریاں وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو دنیا پر نظر رکھتے ہیں مگر افسوس کہ نادان انسان ہر ایک آدمی کو اپنے نفس پر قیاس کر لیتا ہے اس لئے یہ مرض اس کا لا علاج ہے۔ قولہ۔ جب کچھ ایمان تھا تو مان پر تشٹھا کے لئے کچھ مجھ بھی کیا ہوگا یعنی کچھ لالچ اور دل کی خواہش تھی اس پر کچھ غرور بھی کیا ہوگا ۔ اقول اس فقرہ میں دیانند نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ناٹک ایک لالچی اور مغرور آدمی تھا اور تمام فقیری اُس کی اسی غرض سے تھی۔ اب ناظرین خیال کریں کہ اس سے زیادہ تر سخت الفاظ اور کیا ہوں گے۔ ایسے سکھ صاحبوں پر نہایت افسوس ہے کہ اُن کے گرو کی نسبت ایسے ایسے سخت کلمے کہے جائیں اور پھر بھی وہ آریوں سے محبت کے تعلقات رکھیں بھلا وہ ذرہ اُنہیں الفاظ سے دیا نند کو یاد کر کے کوئی اشتہار دے دیں پھر دیکھیں کہ کیونکر آریہ صبر کرتے ہیں اگر با واصاحب سے سچی محبت اور اُن کے لئے سچی غیرت ہے تو اُس کا نمونہ دکھلانا چاہئے۔ قولہ۔ اُن سے کوئی وید کا ارتھ پوچھتا جب نہ آتا تب پر تشٹھانشٹ ہوتی یعنی اگر کوئی اُن سے کوئی وید کا مطلب پوچھتا اور اُن سے کچھ بن نہ آتا تو سب کا ریگری بر باد جاتی اور تمام قامی گھل جاتی۔ اقول یہ تمام گالیاں ہیں اس کا ہم کیا جواب دیں مگر دیا نند سے کوئی پوچھے کہ کیا تیری قلعی کھلی یا نہیں کیا ایسے عقیدوں کے شائع کرنے سے کہ ہر یک جان کا پر میشر سہارا نہیں اور نجات جاودانی نہیں اور ہر ایک فیض کا پر میشر مہد نہیں اور خاوند والی عورت دوسرے سے ہمبستر ہو۔ کیا اس سے تیری تمام کاریگری برباد ہو چکی یا اب تک کچھ باقی ہے دیا نند کو اس بات پر سارا غصہ ہے کہ بادا صاحب وید کے ان عقائد کو قبول نہیں کرتے تھے اور انہوں نے بہت زور سے ان باتوں کا رڈ لکھا ہے۔ قولہ اپنے ششیوں کے سامنے کہیں کہیں ویدوں کے ورودھ بولتے تھے اور کہیں کہیں وید کے لئے اچھا بھی کہا ہے کیونکہ جو کہیں اچھا نہ کہتے تو لوگ اُن کو ناستیک بناتے جیسے کہ۔ وید پڑھت برہما مرے