سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 550

سَت بچن — Page 120

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۰ ست بچن اُس کمال تک پہنچ گئے جس کو دنیا کی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں بلکہ دنیا نہیں چاہتی کہ اُس نور کا ایک ذرہ بھی پر توہ اُن کے دلوں پر پڑے۔ باوا صاحب ایسے وقت میں ظہور فرما ہوئے تھے کہ جب ہندوؤں کی روحانی حیات بالکل بے حس و حرکت ہو گئی تھی بلکہ اس ملک میں مسلمانوں میں سے بھی بہت سے لوگ صرف نام کے ہی مسلمان تھے اور فقط ظاہر پرستی اور رسوم میں مبتلا تھے پس ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے باوا صاحب کو حق اور حقیقت طلبی کی روح عطا کی جبکہ پنجاب میں روحانیت کم ہو چکی تھی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بلاشبہ اُن عارفوں میں سے تھے جو اندر ہی اندر ذات یکتا کی طرف کھینچے جاتے ہیں اگر چہ ہمیں اُن کی ابتدائی زندگی کے حالات اچھی طرح معلوم نہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اُن کا خاتمہ ایک ایسے صراط مستقیم پر ہوا جس کے رو سے هر یک مومن متقی پر فرض ہے کہ اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھے اور پاک جماعت کے رشتہ میں ان کو داخل سمجھے افسوس کہ آریوں کے پنڈت دیانند نے اس خدا ترس بزرگ کی نسبت اس گستاخی کے کلے اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لکھے ہیں جس سے ہمیں ثابت ہو گیا کہ در حقیقت یہ شخص سخت دل ، سیاہ اور نیک لوگوں کا دشمن تھا کاش اگر وہ باوا صاحب کا چیلہ نہ بن سکا تو بارے یہ تو چاہئے تھا کہ بلحاظ ایک مقتدائے قوم کے اُن کی عزت کا لحاظ رکھتا مگر ایسے جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی پڑی جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ ایسے بزرگوں کی خواہ نخواہ تحقیر کریں۔ اس ناحق شناس اور ظالم پنڈت نے باوا صاحب کی شان میں ایسے سخت اور نالائق الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو پڑھ کر بدن کانپتا ہے۔ اور کلیجہ منہ کو آتا ہے اور اگر کوئی باوا صاحب کی پاک عزت کے لئے ایسے جاہل بے ادب کو درست کرنا چاہتا تو تعزیرات ہند کی دفعہ ۵۰۰ اور ۲۹۸ موجود تھی مگر نہ معلوم کہ غیرت مند سکھوں نے ایسے یاوہ گو کی گوشمالی کے لئے کیوں عدالت سے چارہ جوئی نہ کی غالباً انہوں نے عمد احلم اور برداشت کو قرین مصلحت سمجھا یا اب تک دیانند کی بدزبانیوں کی خبر ہی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ دیا نند نے باوا صاحب کے حالات کو اپنے نفس پر خیال کرلیا چونکہ برہمن لوگ جو چار حرف سنا سنسکرت