سَت بچن — Page 119
روحانی خزائن جلد ۱۰ 119 ست بچن ساری زندگی میں اُن کی ایک نظیر بھی تلاش کرنا بے فائدہ ہے جس وقت ہم دیانند اور باوا صاحب (۷) کی زندگی کا باہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں شرم اور انصاف ہاتھ پکڑ کر روک دیتے ہیں کہ کس کا کس کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا ہے۔ دیانند کی سوانح تو وہی کچی معلوم ہوتی ہے جو پچھلے سالوں میں برہموں صاحبوں نے شائع کی تھی جس کے لکھنے سے بھی ہمیں شرم آتی ہے لیکن با وا صاحب تو حق اور سچائی سے بھر پور معلوم ہوتے ہیں پھر نہایت ظلم ہے کہ ایک تہی باطن شخص اُن کی تحقیر اور توہین میں بڑھتا چلا جائے ۔ کیا ہر ایک سچے معتقد کو اس مقام میں غیرت مندی دکھلانا ضروری نہیں کیا اب باوا صاحب با وجود لاکھوں فدا شدہ سکھوں کے غریب اور اکیلے رہ گئے کیا کسی کو اُن کی پاک عزت کے لئے جوش نہیں بیشک جوش ہو گا مگر اب تک باوا صاحب کے غلاموں کو ان ناپاک الفاظ کی خبر بھی نہیں ۔ دیا نند کا یہ کہنا که با وا صاحب وید کو نہیں مانتے بلکہ جابجا اُس کی نند یا کرتے ہیں عجیب بیوقوفی ہے کیونکہ جبکہ با وا صاحب نے اپنی روشن ضمیری اور اپنے گیان سے معلوم کر لیا کہ وید کچھ بھی چیز نہیں تو کیوں وہ ناراستی کی راہ اختیار کرتے ۔ وہ نعوذ باللہ دیا نند کی طرح جہالت اور بخل کی تاریکی میں مبتلا نہ تھے اور نہ ہونا چاہتے تھے خدا نے اُن کو اُس پاک کلام کی برکت جو چولا صاحب لکھا ہوا اب تک پایا جاتا ہے وہ علم عطا کیا تھا جس سے دیانند بے نصیب آیا اور بے نصیب ہی گیا با واصاحب اپنا پاک چولا وصیت نامہ کے طور پر اپنی یادگار چھوڑ کر ایک سچا اور حقیقی پیغام دنیا کو پہنچا گئے اب جس کی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں وہ دیکھے اور جس کے کان سُن سکتے ہیں وہ سنے ۔ باوا صاحب کی تمام باتوں کا مخرج وہی نور تھا جس کو وہ ایک سوتی کپڑے پر قدرتی حرفوں سے لکھا ہوا حق کے طالبوں کے لئے چھوڑ گئے درحقیقت وہی آسمانی چولا قدرت کے ہاتھ کا لکھا ہوا ازلی ھادی کے فضل سے اُن کو ملا تھا جس سے