روئداد جلسۂ دعا — Page 674
24 ہندوستان میں عیسائی دین کی ترقی ۱۵۷ قرآن وحدیث کے دلائل اگرچہ عیسائیوں کے لئے حجت نہیں لیکن اس کے باوجودان کے لکھنے سے غرض ۵۱ ان کا مذہب مردہ ہے اور کوئی ان کے لئے زندہ فیض رسان موجود نہیں ۱۴۱ انہیں کبھی خیال نہیں آیا کہ حضرت عیسی ؑ کی روحانی زندگی ثابت کریں ۱۳۹ تثلیث کے عقیدہ کا ردّ ۱۳ نزول مسیح کے حوالہ سیعیسائیوں کی نسبت وہابی،اہل حدیث اوراہل سنت کا عقیدہ ۶ عیسائی مذہب کا تمام مدار کفارہ پر اور کفارہ کا تمام مدار صلیب پر ہے ۱۶۹ عیسائی مذہب کے ناقص ہونے کے دلائل ۱۶۱ عیسائی مذہب پر فتح پانے کابجز حضرت مسیح کی طبعی موت ثابت کرنے کے اور کوئی طریق نہیں ۱۶۹ح ان کا خدا انہی کی ایجاد ہے، خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی کرنا ۱۴۳ عیسائیوں کے موجودہ دین کے کسی پہلو سے حق کا طالب تسلی نہیں پاتا ۱۶۱ اس خیال کارد کہ صلیبی مذہب کو تلوار سے شکست ہو گی ۱۶۰ ان کے اس اعتراض کا ردّ کہ آنحضرتؐ کو کوئی معجزہ نہیں دیا گیا یا پیشگوئی ظاہر نہیں ہوئی ۶۶ عیسائی مذہب اس قدر دنیا میں پھیل گیا ہے کہ صرف آسمانی نشان ہی اس کے زیر کرنے کے لئے کافی نہیں ہو سکتے ان کے اصولوں کا ابطال بھی ہو ۱۶۸ وہ کتابیں جو عیسائیوں کے رد میں لکھیں۔براہین احمدیہ۔نور الحق۔کشف الغطاء وغیرہ ۲۳۶ عیسائیوں پر دو طرح سے اتمام حجت ۲۳۶ عیسائیوں کی طرف سے اپنے مذہب کی تائید میں اسلام پر الزام قائم کریں گے۔کچھ مکر کریں گے مگر خدا ان کے مکر کی حقیقت کو کھول دے گا ۲۴۹ عیسائیوں کے ایک عیب اور غلطی کا ذکر ۱۲۱ ان کی بہت بڑی غلطی ہے کہ وہ ایک عاجز انسان کو خدا کہتے ہیں ۷ اس زمانہ میں عیسائیوں کے ساتھ بڑی ہمدردی ۱۳ وہ نشان جو انجیل میں سچے مسیحیوں کی علامت بیان کئے گئے ہیں کسی عیسائی میں ان کا ثبوت نہیں ملتا ۱۶۱ اس مذہب کو تین طریقوں سے گرائے جانے کا ذکر ۱۶۶ مرتد ہونے والے مسلمانوں کا کفارہ کے دھوکا سے معاد کے فکر سے فارغ ہو جانا ۴۹ عیسائی تعلیم کے بالمقابل قرآن کریم کی تعلیم کے کامل ہونے کا ثبوت ۱۶۳ ان کا اپنی کتابوں میں مرہم عیسیٰ کا ذکر کرنا ۴۹۸ عیسائی مؤلفین کا سخت اور گندی زبان استعمال کرنا ۴۹۰ عیسائیوں کی سخت کلامی کا سختی سے جواب دینے میں حکمت ۴۸۹ ف،ق،ک فتح اسی گروہ کی فتح ہے جو دہریہ نہیں اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ایمان رکھتے ہیں اور ہنسی ٹھٹھے سے پرہیز کرتے ہیں ۵۶۰ عیسائیوں پر فتح عظیم ۲۴۵ فسح کی عید افغانیوں کی یوسف زئی شاخ میں اس کا رواج ہے ۱۰۶ قرآن شریف قرآن کا ظاہری اور معنوی ترتیب کو ملحوظ رکھنا ۴۵۶ح قرآن کی ظاہری ترتیب ایک بڑا بھاری معجزہ ہے ۴۵۷ح قرآن کی ظاہری ترتیب پر یقین رکھنے والے کو قرآن دانی کی کنجی ہاتھ آجاتی ہے ۴۵۶ح ح بلاوجہ قرآنی ترتیب کو الٹانے پلٹانے کی ممانعت ۴۶۰ح قرآن کی عادت کہ وہ بعض دفعہ کفار کے اقوال نقل کرتا ہے اور بوجہ بداہت بطلان ان کا رد نہیں کرتا ۴۰۰