روئداد جلسۂ دعا — Page 646
۔اخلاق بشر کی تکمیل کے لئے ایک نکتہ سنو۔مظاہر پر نظر کرو اور ذات کردگار کو یاد کرو۔اس کے احسانات کے مظاہر کا شکر کرنا شکر خدا ہی ہے اور اپنے ایمان سے ’’من لم یشکر الناس‘‘ کو یاد رکھو۔خدائے حق نے فرمایا کہ اے مومنو ! اپنے والدین سے احسان کرو۔اس کے راز احسان کی یہ حقیقت دنیا پر کھل گئی ہے۔دین اور توحید خدائے جاوداں کی راہ دکھانے والا ہماری ارواح کے لئے پروردگار کا ایک مظہر بن گیا۔اس زمانہ نے اس آفتاب کو مطلع ہندوستان سے نصف النہار کے سورج کی طرح اس عالم پر طلوع کردیا ہے۔میرے سے کس طرح اس عالی جناب بادشاہ کی تعریف ہو سکتی ہے۔میں اس عالی ذات کے حسین چہرہ کے اوصاف کیسے جان سکتا ہوں۔ہمارا آقا، ہمارا رہبر اور ملک دین کا پیشوا سارا زمانہ دیوانہ وار روئے محمدؐ کا عاشق ہے صفحہ ۶۳۰۔اس کے پاک چہرے سے دلدار ازل کی خوشبو آتی ہے اور اس کے مشکبار گیسوؤں سے مشک تاتار کی خوشبو آتی ہے۔دنیا پر عالم کو روشن کردینے والے سورج کی طرح چمکا ہے (اور) ندیوں میں ایمان کے واسطے زندگی بخش پانی جاری ہوگیا۔نور ایمان کی تازہ ہوا سے دل کا باغیچہ ترو تازہ ہوگیا ہے (اور) پاک طبع لوگوں پر باد بہار چل رہی ہے۔محمدؐ کے چمن میں اس عندلیب نے نالہ بلند کیا ہے (اور)دین کے ویران باغ میں وہ دوبارہ بہار لے آیا ہے۔یہ مبارک طبع (وجود) پاکیزگی کے باغ میں ایک بلبل ہے۔اس کی آہ و فغاں سے صادقوں کے دل کی آنکھیں اشکبار ہوگئی ہیں۔خدا کے قرب کے مقام میں اس کے قدم بلندی پر پہنچ چکے ہیں اور عشق محمدؐ کی شراب سے وہ اپنی ذات سے بے اختیار ہوگیا ہے۔خدائے حق نے اپنی نعمتوں سے اس کو جہان میں ممتاز کردیا (اور) اس عالم ذوالاقتدار کی درگاہ میں عزت پا گیا