روئداد جلسۂ دعا — Page 617
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۱۷ رونداد جلسه دعا اگر یہاں سے کوئی عورت جایا کرتی تھی تو رو رو کر جایا کرتی تھی کہ خدا جانے (۲۵) پھر واپس آنا ہوگا یا نہیں ۔ اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ انسان زمین کی انتہا تک چلا جائے اس کو کسی قسم کا خطرہ نہیں سفر کے وسائل ایسے آسان کر دئیے گئے ہیں کہ ہر ایک قسم کا آرام حاصل ہے گویا گھر کی طرح ریل میں بیٹھا ہوا یا سویا ہوا جہاں چاہے چلا جائے ۔ مال و جان کی حفاظت کے لئے پولیس کا وسیع صیغہ موجود ہے ۔ حقوق کی حفاظت کے لئے عدالتیں کھلی ہیں جہاں تک چاہے چارہ جوئی کرتا چلا جائے۔ یہ کس قدر احسان ہیں جو ہماری عملی آزادی کا موجب ہوئے ہیں ۔ پس اگر ایسی حالت میں جبکہ جسم و روح پر بے انتہا احسان ہورہے ہوں ہم میں صلح کاری اور شکر گزاری کا مادہ پیدا نہیں ہوتا تو تعجب کی بات ہے ؟ جو مخلوق کا شکر نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا ۔ وجہ کیا ہے؟ اس لئے کہ وہ مخلوق بھی تو خدا ہی کا فرستادہ ہوتا ہے اور خدا ہی کے ارادہ کے تحت میں چلتا ہے۔ الغرض یہ سب اُمور جو میں نے بیان کئے ہیں ایک نیک دل انسان کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ ایسے محسن کا شکر گزار ہو یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار اپنی تصنیفات میں اور اپنی تقریروں میں گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانوں کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہمارا دل واقعی اس کے احسانات کی لذت سے بھرا ہوا ہے احسان فراموش نادان اپنی منافقانہ فطرتوں پر قیاس کر کے ہمارے اس طریق عمل کو جو صدق و اخلاص سے پیدا ہوتا ہے جھوٹی خوشامد پر حمل کرتے ہیں ۔ اب میں پھر اصل بات کی طرف عود کر کے