رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 550

رازِ حقیقت — Page 175

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۷۵ راز حقیقت پیشگی ذلت کہنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ شیخ مذکور نے الہام موصوف کو دیکھ کر ایک موقعہ میں شیخ غلام مصطفیٰ صاحب کے آگے جو اسی شہر کے باشندے ہیں میرے اس اشتہار کو دیکھ کر یہ اعتراض کیا کہ الہام مندرجہ اشتہار میں جو یہ فقرہ ہے کہ اتعجب لامری اس میں نحوی غلطی ہے اور خدا کا کلام نام نہیں ہو سکتا بلکہ انعْجَبُ مِن امری چاہیے یہ وہ اعتراض ہے جس سے بلا توقف شیخ کو ذلت نصیب ہوئی کیونکہ عرب کے نامی شاعروں بلکہ جاہلیت کے جلیل الشان شعراء کے کلام سے ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ عجب کا صلہ لام بھی ہوا کرتا ہے۔ اب بد یہی طور پر ظاہر ہے کہ شیخ صاحب موصوف نے یہ غلط اعتراض کر کے جو اُن کے کمال درجہ کی بے خبری اور جہالت پر دلالت کرتا ہے اہل علم کے سامنے اپنی نہایت درجہ کی پردہ دری اپنے ہاتھوں سے کرائی ہے اور ہر ایک دشمن اور دوست پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف نام کے مولوی اور علوم عربیہ سے بے بہرہ ہیں اور ایسے شخص کے لئے جو مولوی کہلاتا ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی ذلت نہیں جو وہ در حقیقت مولویت کی صفات سے بے نصیب ہے۔ افسوس اس شخص کو اب تک خبر نہیں کہ اس فعل کا صلہ یعنی عجب کا کبھی مین کے لفظ سے آتا ہے اور بھی لام سے ۔ ایک بچہ جس نے هداية النحو تک پڑھا ہو وہ بھی جانتا ہے کہ نویوں نے لام کا صلہ بھی بیان کیا ہے جیسا کہ من کا بیان کیا ہے ۔ چنانچہ اس صلہ کی شہادت میں جو شعر پیش کئے گئے ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے عجبت لمولود ليس له اب ومن ذى ولد ليس له ابوان شاعر نے اس شعر میں دونوں صلوں کا ذکر کر دیا ہے لام کا بھی اور من کا بھی ۔ اور دیوان حماسہ کے صفحہ 9 اور ۳۹۰ د ۴۱ و ۴۷۵ و ۵۱ میں جو سرکاری کالجوں میں داخل ہے جس کی فصاحت بلاغت مسلم اور مقبول ہے جعفر بن علیہ اور دوسرے شاعروں کے پانچ شعر لکھے گئے ہیں جن میں اُن عرب کے نامی شاعروں نے عجب کاصلہ لام رکھا ہے۔ وہ یہ ہیں ۔ (1) عجبت لمسراها واني تخلصت الى و بـــاب الـسـجـن دونـي مُغلق فلما انقضى ما بيننا سكن الدهر (۲) عجبت لسعى الدهر بيني وبينها (۳) عجبتُ لبُرئی منک یا عز بعد ما عمرت زمــانــا منک غیر صحیح (۴) عجبت لعبدان هجونی سفاهة ان اصطبحوا من شائهم وتقيلوا (۵) عجبا لاحمد والعجائب جُمة اني يـلـوم عـلـى الـزمــان تبدلي اور اس سے بڑھ کر یہ کہ جو حدیث مشکوۃ کتاب الایمان صفحہ ۳ میں اسلام کے معنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس کو متفق علیہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بھی عجب کے لفظ کا صلہ لام کے ساتھ آیا ہے اور حدیث کے رات کے لفظ یہ ہیں عجبنا له يسئله و يُصَدِّقُهُ۔ دیکھو اس جگہ عجبنا کا صلہ من نہیں لکھا بلکہ لام لکھا ہے اور عجبنا منہ نہیں کہا