رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 550

رازِ حقیقت — Page 174

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۷۴ راز حقیقت میں صرف ایک طرف سے بددعا نہیں ہوتی بلکہ دونوں طرف سے بددعا ہوتی ہے۔ پس اگر ایک فریق مومن اور مسلمان کہلاتا ہے اور دوسرے فریق کو کافر اور دجال اور بے دین اور لعنتی اور مرتد کہہ کر اسلام سے خارج کرتا ہے جیسا کہ میاں محمد حسین بٹالوی ہے تو اس کو کس نے منع کیا ہے کہ وہ فوری عذاب کے لئے بددعا کرے۔ مگر ملہم اُس کی مرضی کا تابع نہیں ہو سکتا ۔ ملہم تو خدا تعالی کے الہام کی تابع داری کرے گا لیکن ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کا ہمارا اشتہار جو مباہلہ کے رنگ میں شیخ محمد حسین اور اُس کے دو ہمر از رفیقوں کے مقابل پر نکلا ہے وہ صرف ایک دعا ہے جس کا صرف مطلب یہ ہے کہ جھوٹے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلت پہنچے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جھوٹا مارا جائے یا کسی کو ٹھے سے گرے۔ چونکہ محمد حسین اور زنلی اور نبی نے افتراؤں اور لعنتوں اور گالیوں سے صرف میری ذلت چاہی ہے اس لئے میں نے خدا تعالیٰ سے یہی چاہا کہ اگر در حقیقت میں ذلت کے لائق اور کا ذب اور دجال اور لعنتی ہوں جیسا کہ محمد حسین نے اس قسم کی گالیوں سے اپنے رسالے بھر دیئے ہیں اور بار بار میرا دل دکھایا ہے تو اور بھی ذلیل کیا جاؤں اور شیخ محمد حسین کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عزت ملے اور بڑے بڑے مراتب پاوے لیکن اگر میں کا ذب اور دجال اور لعنتی نہیں ہوں تو جناب احدیت میں میری فریاد ہے کہ میرے ذلیل کرنے والے محمد حسین اور زٹلی اور تبتی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلت پہنچے ۔ غرض میں خدا تعالیٰ سے ظالم اور کاذب کی ذلّت چاہتا ہوں ۔ ہم دونوں میں سے کوئی ہو، اور اس پر آمین کرتا ہوں۔ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ ان دونوں فریق میں سے جو فریق در حقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں ظالم اور کاذب ہے، اس کو خدا ذلیل کرے گا اور یہ واقعہ پندرہ جنوری ۱۹۰۰ ء تک پورا ہو جائے گا۔ خدا تعالی بہتر جانتا ہے کہ اُس کی نظر میں کون ظالم اور کاذب ہے۔ اگر اس عرصے میں میری ذلت ظاہر ہوگئی تو بلاشبہ میرا کا ذب اور ظالم اور دجال ہونا ثابت ہو جائے گا اور اس طرح پر قوم کا روز کا جھگڑا مٹ جائے گا۔ اور اگر شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور تبتی پر آسمان سے کوئی ذلت آئے تو وہ اس بات پر دلیل قاطعہ ہوگی کہ انہوں نے گالیاں دینے اور دجال اور لعنتی اور کذاب کہنے میں میرے پر ظلم کیا ہے لیکن شیخ محمد حسین نے میرے عربی الہام پر اعتراض کر کے جو اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں ہے یعنی جو فقرہ العجب لامری ہے اپنے لئے ذلت کا دروازہ آپ کھولا ہے گویا عورت کو اپنے ہاتھوں سے فوری ذلت کی خواہش کو پورا کیا ہے بلکہ فوری ذلت تو ۱۵ار دسمبر ۱۸۹۸ء سے پوری ہونی چاہیے تھی اور انہوں نے اس سے پہلے ہی ایک قابل شرم ذلت اٹھائی ہے جس کو فوری نہیں بلکہ