قادیان کے آریہ اور ہم — Page 441
۴۳۷ قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ تحصیل بٹالہ میں ہماری طرف سے نالش دائر کی گئی تھی کہ اُس نے بغیر اجازت ہماری کے اپنے کھیت سے درخت کاٹ لئے ہیں۔ تب خدا نے میرے دعا کرنے کے وقت میری دعا کو قبول فرما کر میرے پر یہ ظاہر کیا تھا کہ ڈگری ہو گئی اور میں نے یہ پیشگوئی شرمپت کو بتادی تھی ۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ حکم کے وقت ہماری طرف سے عدالت میں کوئی حاضر نہ تھا اور فریق ثانی حاضر ہو گئے تھے۔ قریب عصر کے وقت تھا کہ شرمیت نے ہماری مسجد میں آکر تمسخر کے طور پر مجھے یہ کہا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔ ڈگری نہیں ہوئی۔ تب مجھ پر وہ غم گذرا جس کو میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ خدا کا قطعی طور پر کلام تھا۔ میں مسجد میں نہایت پریشانی سے بیٹھ گیا اس خیال سے کہ ایک مشرک نے مجھے شرمندہ کیا۔ اور میں اُس کی اس (۳۰) خبر سے انکار نہیں کر سکتا تھا کیونکہ قریب پندرہ آدمی کے ہندو اور مسلمان بٹالہ سے یہ خبر لائے تھے۔ اس لئے نہایت درجہ کا غم مجھ پر طاری تھا۔ اتنے میں غیب سے ایک آواز آئی اور وہ نہایت رعب ناک آواز تھی اس کے الفاظ یہ تھے ۔ ” ڈگری ہوگئی ہے۔ مسلمان ہے؟ یعنی کیا تو خدا کے کلام کو باور نہیں کرتا ۔ ایسی آواز پہلے اس سے میں نے کبھی نہیں سنی تھی ۔ میں مسجد کے ہر طرف دوڑا کہ یہ بلند آواز کس کی طرف سے آئی اور آخر ☆ معلوم ہوا کہ فرشتہ کی آواز ہے۔ یہ وہی فرشتے ہیں جن سے آج کل کے اندھے آریہ انکار کرتے ہیں تب میں نے اُسی وقت شرمیت کو بلایا اور کہا کہ ابھی خدا کی طرف سے مجھے یہ آواز آئی ہے۔ اِس پر اُس نے پھر ہنس دیا اور کہا کہ بٹالہ سے پندرہ سولہ آدمی نادان آریہ کہتے ہیں کہ خدا کو کسی چٹھی رسان کی کیا حاجت ہے یعنی وہ فرشتوں کا محتاج نہیں ۔ پس یہ تو سچ ہے کہ خدا کسی چیز کا محتاج نہیں مگر اس کی عادت میں داخل ہے کہ وہ وسائط سے کام لیتا ہے۔ اور وسائط سے کام لینا اس کے عام قانون قدرت میں داخل ہے دیکھو وہ ہوا کے ذریعہ سے کانوں تک آواز پہنچاتا ہے۔ پس جسمانی سلسلہ سے یہ روحانی فعل (۳۱) اس کا عین مطابق ہے جو روحانی کانوں کو اپنی آواز فرشتوں کے ذریعہ سے جو ہوا کے قائم مقام ہیں پہنچا دے اور ضرور ہے کہ جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں یا ہم مطابق ہوں اور یہی دلیل قرآن شریف نے پیش کی ہے۔ منہ