قادیان کے آریہ اور ہم — Page 440
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۳۶ قادیان کے آریہ اور ہم اور لالہ شرمیت قسم کھا کر یہ بھی بتادے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ایک مدت تک وہ میرے پاس یہی جھوٹ بولتا رہا کہ میرا بھائی سمبر داس بری ہو گیا ہے۔ اور پھر جب حافظ ہدایت علی جو ان دنوں میں بٹالہ کا تحصیلدار تھا اتفاقاً قادیان میں آیا اور قریباً دس بجے کا وقت تھا۔ تب بسمبر داس میرے مردانہ مکان کے نیچے اس کو ملا اور اُس نے بسمبر داس کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم خوش ہوئے کہ تم قید سے مخلصی پاگئے مگر افسوس کہ تم بری نہ ہوئے ۔ تب میں نے شرمیت کو کہا کہ تم کیوں اس قدر مدت تک میرے پاس جھوٹ بولتے رہے کہ میرا بھائی سمبر داس بری ہو گیا ہے۔ تو شرمیت نے یہ جواب دیا کہ ہم نے اس لئے اصل حقیقت کو چھپایا کہ اصلیت ظاہر کرنے سے ایک داغ رہ جاتا تھا اور آئندہ رشتوں ناطوں میں ایک رکاوٹ پیدا ہو جاتی تھی اور اندیشہ تھا کہ برادری کے لوگ ہمارے خاندان کو بدچلن خیال کریں اور کیا یہ سچ نہیں کہ جب بسمبر داس کی قید کی نسبت چیف کورٹ میں اپیل دائر کیا گیا تو نماز عشاء کے وقت جب میں اپنی بڑی مسجد میں تھا علی محمد نام ایک ملاں ساکن قادیان نے جواب تک زندہ اور ہمارے سلسلہ کا مخالف ہے میرے پاس آکر بیان کیا کہ اپیل منظور ہو گئی اور بسمبر داس بری ہو گیا اور کہا کہ بازار میں اس خوشی کا ایک جوش بر پا ہے۔ تب اس غم سے میرے پر وہ حالت گزری جس کو خدا جانتا ہے۔ اس غم سے میں محسوس نہیں کر سکتا تھا کہ میں زندہ ہوں یا مر گیا۔ تب اسی حالت میں نماز شروع کی گئی۔ جب میں سجدہ میں گیا تب مجھے یہ الہام ہوا لا تحزن انک انت الا علی یعنی غم نہ کر تجھی کو غلبہ ہو گا ۔ تب میں نے ۲۹ شرمیت کو اس سے اطلاع دی۔ اور حقیقت یہ کھلی کہ اپیل صرف لیا گیا ہے یہ نہیں کہ بسمبر داس بری کیا گیا ہے۔ پس شرمیت قسم کھا کر بتلاوے کہ کیا یہ واقعہ نہیں گزرا؟ اور دوسری طرف علی محمد ملاں بھی قسم کے لئے بلایا جائے گا جو ایک مخالف بلکہ ایک نہایت خبیث مخالف کا بھائی ہے۔ (۳) اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ایک دفعہ چندا سنگھ نام ایک سکھ پر بابت در و درختان