نزول المسیح — Page 631
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۲۷ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے سے یہودیوں اور مسلمانوں کو پیشگوئیوں کے وقتوں کی شناخت کرنے کے لئے یہی حساب سکھایا گیا ہے اور سورج کے دنوں کے رو سے حساب کرنا انسانوں کی بدعت ہے جو پاک نوشتوں کے منشاء کے مخالف ہے۔ غرض اس حساب کے رو سے شیطان کی مہلت کے آخری دن یہی ہیں جن میں ہم ہیں بلکہ یوں سمجھو کہ گزر بھی چکے کیونکہ ہجری صدی جس کے سر پر ہزار برس شیطان کے چھوٹنے کا پورا ہو گیا۔ اس کو انیس برس گزر چکے اور شیطان نہیں چاہتا کہ اس سے آزادی اور حکومت چھین لی جاوے۔ ناچار دونوں کششوں کی لڑائی ہوگی جو ابتدا سے مقدر تھی اور ممکن نہیں ہے کہ خدا کا کلام غلط ہو۔ اور ان دنوں پر ایک دوسری شہادت یہ بھی ہے کہ دنیا کی ابتدا سے یعنی آدم کے ظہور سے آج تک چھٹا ہزار بھی گزر گیا جس میں آدم ثانی پیدا ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ چھٹا دن آدم کی پیدائش کا دن ہے اور خدا کی پاک کتابوں کے رو سے ایک ہزار برس ایسا ہے جیسا کہ ایک دن۔ سو یہ امر خدا کے پاک وعدوں کے رو سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ آدم پیدا ہو گیا۔ گو وہ ابھی کامل طور پر شناخت نہیں کیا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اس آدم کا مقام جو خدا کے ہاتھ سے تجویز کیا گیا وہ شرقی ہے نہ غربی کیونکہ توریت باب ۲۔ آیت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آدم کو ایک باغ میں شرقی طرف جگہ دی گئی تھی پس ضرور ہے کہ یہ آدم بھی مشرقی ملک میں ہی ظاہر ہوتا اول اور آخر کی مماثلت مکانی قائم رہے۔ اور اس اعتراف سے جیسا کہ مسلمانوں کو چارہ نہیں ویسا ہی عیسائیوں کو بھی کوئی گریز کی جگہ نہیں بشرطیکہ دہریت کی رگ مانع نہ ہو۔ پس اصل حقیقت کے سمجھنے کیلئے کچھ مشکلات باقی نہیں رہیں اور یہ مسئلہ نہایت صاف ہے کہ یہ زمانہ نور اور ظلمت کی لڑائی کا زمانہ ہے اور ظلمت نے انتہا تک اپنا کام کر لیا ہے اور یہ امیدیں نہیں کی جاسکتیں کہ بغیر نزول آسمانی نور کے اس ظلمت پر کوئی فتحیاب ہو سکے اور اس بات میں ذرا بھی شبہ نہیں ہے کہ ظلمت اپنے پورے زوروں میں ہے اور راستبازی کا نیم مردہ چراغ فنا ہونے کے قریب ہے اور رسمی حمل پیدائش باب ۲ آیت نمبر ۸۔(ناشر)